Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دسترخوان ہی نہیں، دل بھی کشادہ‘: مملکت میں افطار پکوانوں کا تبادلہ

افطار سے قبل دروازے پر بچے ہاتھوں میں سجی ٹرے لیے کھڑے ہوتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حائل اور حدود الشمالیہ ریجن میں ماہ صیام کے دوران ہمسایوں میں افطاری تقسیم کرنے کی قدیم روایت ’الطعمہ‘ آج بھی جاری ہے۔
افطار سے چند لمحات قبل دروازے پر دستک دی جاتی ہے اور بچے ہاتھوں میں کھانوں اور پھلوں سے سجی ٹرے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حائل ریجن میں ’الطعمہ‘ کی قدیم روایت پر اسی طرح عمل کیا جاتا ہے۔
الطعمہ محض افطار پکوانوں کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک قدیم روایت اور خاموش پیغام ہے جو ہمسایہ کے حقوق کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہ رمضان میں صرف دسترخوان ہی نہیں بلکہ دل بھی کشادہ ہوتے ہیں، اور دوستوں، احباب اور پڑوسیوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

افطاری سے چند لمحے قبل بچے ہاتھوں میں پکوانوں کی ٹرے اٹھائے نظر آتے ہیں جو باہمی محبت اور اخوت کا اظہار بھی ہیں۔
وقت کے ساتھ پکوانوں کے انداز تو بدل گئے ہیں مگر ’الطعمہ‘ کی روایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
حدود الشمالیہ میں بھی افطار تقسیم کی ثقافت انتہائی قدیم ہے، جب آبادی کم اور گھر  فاصلے پر تھے۔ اس وقت اشیائے خورونوش کی فراوانی نہیں تھی۔

رمضان المبارک میں اہلِ محلہ اپنے ہمسایوں اور عزیزوں کے گھروں میں افطاری کی اشیا کا تبادلۂ کرتے اور مسافروں کو بھی پیش کرتے تھے۔
مرد ایک جگہ جمع ہوتے، اپنے گھروں سے افطاری لاتے اور مل کر روزہ افطار کرتے۔ اگر کوئی مسافر آتا تو اسے بھی دسترخوان پر مہمان بنایا جاتا۔
علاقے کے معمر افراد کا کہنا ہے کہ ’آج بھی ہم اس روایت پر اسی طرح عمل پیرا ہیں جیسا ماضی میں کیا کرتے تھے۔ اس کا مقصد پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے جس سے باہمی اخوت اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

 

شیئر: