کشمیر کے رہائشی راجہ بشارت دریا کے دوسرے کنارے پر موجود اپنے بھائی کی قبر کو صاف دیکھ سکتے ہیں لیکن عید الاضحیٰ جیسے بڑے تہوار پر بھی وہاں جا کر فاتحہ پڑھنا ان کے لیے ناممکن ہے۔
یہ دریا کسی عام سرحدی لکیر کی طرح نہیں بلکہ اس متنازع خطے کو تقسیم کرنے والی ایک ایسی دیوار ہے جس نے صدیوں سے ساتھ رہنے والے خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اب یہ فاصلے مزید تلخ اور تکلیف دہ ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’آپریشن سندور 2.0‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: انڈین آرمی چیفNode ID: 904819
پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے گاؤں ’کیرن‘ میں رہنے والے راجہ بشارت کہتے ہیں ’عید خوشیوں اور جشن کا تہوار ہے لیکن ہمارے لیے یہ صرف دکھ، افسوس اور بے بسی کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔‘
’جی چاہتا ہے اس دریا میں کود جاؤں‘
پانی کے اس تیز بہاؤ کو دیکھتے ہوئے جو دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا کام کرتا ہے، راجہ بشارت کو رواں سال اپریل میں انڈین زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے بڑے بھائی راجہ لیاقت کی موت کا وہ منظر یاد آ گیا جب ان کی تدفین کی جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کے جنازے کو سرینگر سے منتقل کر کے کیرن کے اس حصے میں لایا گیا تھا جو دوسری طرف ہے۔ یہ گاؤں اس شدید ترین فوجی پہرے والی سرحد کی وجہ سے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ لیکن عید پر چند میٹر کے فاصلے پر موجود اپنے بھائی کی قبر پر جانے کے بجائے، میں صرف دور سے اسے حسرت سے دیکھ ہی سکتا تھا۔‘
نہایت جذباتی انداز میں انہوں نے کہا ’کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس دریا میں کود جاؤں۔ اگر ہم اس دنیا میں اکٹھے نہیں رہ سکے، تو شاید موت کے بعد ہی ایک جگہ آرام کر سکیں۔‘
’ہم کہاں جائیں؟‘
سنہ 1947 میں برطانوی ہند کی تقسیم کے بعد سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دو روایتی حریفوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ سے تنازع کی اصل وجہ رہا ہے۔
دونوں ممالک اس خطے پر اپنا پورا حق جتاتے ہیں لیکن اس وقت اس کے الگ الگ حصے دونوں کے کنٹرول میں ہیں۔
لگ بھگ 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) ایک ایسی فوجی سرحد ہے جو پہاڑوں، جنگلوں اور دیہاتوں کو ہی نہیں کاٹتی بلکہ کئی جگہوں پر یہ سیدھی خاندانوں کے دلوں کے بیچ سے گزرتی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں شادیاں، جنازے اور دیگر تقریبات قریبی رشتہ داروں کی موجودگی کے بغیر ہی ہوتی آئی ہیں جو محض چند گز کے فاصلے پر رہ رہے ہوتے ہیں۔

راجہ لیاقت کی بھتیجی لائبہ راجہ کہتی ہیں ’یہ دریا آج ہر ایک کو نظر آ رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے نہ صرف دو ملکوں کو تقسیم کیا ہے بلکہ خاندانوں کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ عید پر لوگ اپنے پیاروں سے ملتے ہیں، لیکن ہم کہاں جائیں؟‘
ماضی میں کئی برسوں تک یہ ہوتا تھا کہ سرحد کے دونوں پار بچھڑے ہوئے خاندان دریا کے کناروں پر جمع ہو جاتے تھے، دور سے ہاتھ ہلاتے تھے، عید کی مبارکباد دیتے تھے اور اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھ کر دل کو تسلی دے لیتے تھے۔
لیکن دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سخت حفاظتی اقدامات کے باعث اب یہ غیر رسمی ملاقاتیں بھی قریباً ختم ہو چکی ہیں۔
نسلیں بدل گئیں، امید وہی ہے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی ایک تنظیم کے رہنما عزیر احمد کے مطابق اس وقت قریباً 48 ہزار مہاجرین پاکستان کے مختلف کیمپوں اور شہروں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان میں سے اکثریت آج بھی اس دھیمی سی امید کے سہارے جی رہی ہے کہ شاید کسی دن وہ سرحد پار اپنے رشتہ داروں سے دوبارہ مل سکیں گے۔
جیسے ہی کیرن پر شام کا سایہ گہرا ہوتا ہے، پہاڑوں کے طویل سائے اس دریا پر پھیل جاتے ہیں جو دونوں حصوں کو الگ کرتا ہے۔ ایک طرف بچے پانی کے قریب کھیل رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف دور بنی چوکیوں سے فوجی کڑی نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔
صاف موسم میں یہاں کے مکین اب بھی دوسرے کنارے پر موجود گھروں کو واضح دیکھ سکتے ہیں۔
عزیر احمد کہتے ہیں ’ہمارے بزرگ اس دن کے انتظار میں دنیا سے رخصت ہو گئے جب وہ اپنے پیاروں کو گلے لگا سکیں، رشتہ داروں کے جنازوں میں شریک ہو سکیں یا ان کو آخری بار الوداع کہہ سکیں۔ اب ایک نئی نسل اسی امید کے ساتھ جوان ہو رہی ہے۔‘











