پیرس: فٹ بال میچ میں پی ایس جی کی فتح کے بعد دنگے پھوٹ پڑے، سینکڑوں گرفتار
پیرس: فٹ بال میچ میں پی ایس جی کی فتح کے بعد دنگے پھوٹ پڑے، سینکڑوں گرفتار
اتوار 31 مئی 2026 6:53
میچ کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور دنگے پھوٹ پڑے (فوٹو: اے پی)
فرانس کے دارالحکومت فرانس میں ایک فٹ بال ایونٹ کے فائنل میچ کے دنگے پھوٹ پڑے اور پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جس پر پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو یونین آف یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن (یو ای ایف اے) کے زیرانتظام ہونے والی چیمپیئنز لیگ کا فائنل پیرس میں کھیلا گیا جس میں پیرس سینٹ جرمین نے فتح حاصل کی، تاہم اس کے فوراً بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوںپر نکل آئے اور پرتشدد جھڑپیں ہو گئیں جس پر وہ پولیس اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے جن کو ایونٹ کے لیے خصوصی طور پر شہر میں تعینات کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق میچ کے موقع پر ملک میں میں 22 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے آٹھ ہزار پیرس میں ڈیوٹی پر تھے، پچھلے برس اسی ایونٹ کے فائنل کے بعد بھی بدامنی کے واقعات پیش آئے تھے اور اسی کے پیش نظر ہی اس بار سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
اسی طرح شہر میں ٹرام سروس کو بھی بند کیا گیا جبکہ متعدد میٹرو سٹیشنز کے علاوہ بعض علاقوں میں بس سروس بھی بند کر دی گئی۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر سے 416 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 283 پیرس سے گرفتار کیے گئے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان میں کتنے افراد کو مزید تفتیش کے حراست باضابطہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لارینٹ نیونیز کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور انہوں نے ایسے واقعات ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
فسادات کے دوران چھ گاڑیوں اور دو کاروباری اداروں کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا۔
میچ کا فیصلہ آنے کے بعد شائقین کے ایک گروہ نے پیرس کی رنگ روڈ پر دھاوا بول دیا جس کے باعث وہاں ٹریفک مکمل طور پر بند ہو گئی۔
اے ایف پی سے وابستہ ایک فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے سڑک پر فلیئرز بھی جلائے۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں سٹیڈیم کے اندر گھسنے کی کوشش بھی کی تاہم ان کو پیچھے دھکیل دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال اس وقت جب شائقین کا ایک گروپ ٹیم کی کامیابی کا جشن منا رہا تھا تو اس وقت اچانک لوگ باہر نکل آئے اور چیمپ ایلیسز شاہراہ پر 20 ہزار کے قریب لوگ جمع ہو گئے۔
پچھلے برس بھی چونکہ بدامنی کا واقعہ پیش آیا تھا اس لیے اس بار دکانداروں نے شیشوں کو بچانے کے لیے دکانوں کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ رکھا تھا، پچھلے برس بھی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے تھے جس کے بعد سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سنیچر کو پولیس نے بڑے پیمانے پر آتش بازی کا سامان بھی قبضے میں لیا جبکہ مظاہرین کی جانب سے ایک بس سٹاپ کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ کے قریب ایک بیکری اور ریستوران کو بھی نقصان پہنچا۔
سٹیڈیم کے اندر ہزاروں افراد میچ دیکھنے کے لیے موجود تھے جبکہ چار سے پانچ ہزار باہر جمع تھے اور انہوں نے پولیس پر بوتلیں اور دوسری اشیا پھینکیں۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں سٹیڈیم کے اندر گھسنے کی کوشش بھی کی تاہم ان کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔
موقعے پر موجود اے ایف پی سے وابستہ ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم کے قریب پولیس اور شائقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور شائقین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا جبکہ پولیس نے جواب میں آنسو گیس کے شیل پھینکے۔