مانچسٹر کی مسجد میں ہتھیار سمیت داخل ہونے والا شخص گرفتار
عینی شاہد کے مطابق موقع پر تقریباً پولیس کی 15 گاڑیاں پہنچ گئیں۔ (فوٹو: سکرین گریب)
برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ’مشتبہ انداز‘ میں مانچسٹر سینٹرل مسجد میں داخل ہوا اور اس کے پاس ممنوعہ ہتھیار موجود تھا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’ملزم، جس کی عمر 40 سے 50 برس کے درمیان بتائی جاتی ہے، منگل کی شام کلہاڑی لے کر مسجد میں داخل ہوا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چار افراد نے فوری طور پر اسے قابو کر لیا اور آگ بجھانے والے آلے (فائر ایکسٹینگشر) سے اس پر ضرب لگائی۔ مسجد کے اندر موجود تقریباً پانچ ہزار نمازیوں کو عمارت خالی کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ موقع پر تقریباً پولیس کی 15 گاڑیاں پہنچ گئیں۔ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔‘
پولیس کو رات تقریباً آٹھ بج کر 40 منٹ پر اطلاع ملی کہ دو افراد اپر پارک روڈ پر واقع مانچسٹر سینٹرل مسجد میں داخل ہوئے ہیں اور مشتبہ حرکات کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور 40 سالہ شخص کو ممنوعہ ہتھیار رکھنے اور کلاس بی درجے کی منشیات رکھنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔ ملزم اس وقت مزید تفتیش کے لیے حراست میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق دوسرا شخص پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا، جبکہ پولیس نے واقعے سے متعلق معلومات رکھنے والوں سے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔
شہر مانچسٹر کے وسطی ضلع کے سپرنٹنڈنٹ سائمن ناسم نے کہا کہ ’گذشتہ شام افسران ایک مقامی مسجد پہنچے جب اطلاع ملی کہ دو افراد مقدس مہینے رمضان کے دوران عبادت کے وقت مشتبہ حرکات کر رہے ہیں اور ان کے پاس ممنوعہ ہتھیار موجود ہے۔ ہم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ کسی کو دھمکی نہیں دی گئی اور خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران علاقے میں پولیس گشت میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے اور شہری بلا جھجھک اہلکاروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
