انڈین ایئرفورس طیارہ آسام کے جورہاٹ ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران تباہ، ’پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ‘
انڈین ایئرفورس طیارہ آسام کے جورہاٹ ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران تباہ، ’پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ‘
ہفتہ 13 جون 2026 11:09
انڈین ایئر فورس کا ایک اے این-32 (AN-32) ٹرانسپورٹ طیارہ سنیچر کو ریاست آسام کے جورہاٹ میں واقع ’روریا ایئر فورس سٹیشن‘ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا ہے جس میں حکام کی جانب سے پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ایک مال بردار (کارگو) جہاز تھا جو بالائی آسام کے اس تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایئربیس کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ ہے تاہم جہاز پر موجود دیگر عملے کے ارکان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
انڈین فضائیہ نے سنیچر کی دوپہر جاری کیے گئے ایک بیان میں حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’آسام کے جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر لینڈنگ کے دوران ایک فوجی طیارہ تباہ ہوا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ایک اے این-32 کارگو طیارہ تھا جو سپلائی اور سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایئربیس پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ خدشہ ہے کہ پائلٹ اس حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں اور تحقیقات کا عمل جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔‘
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوراً جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
’روریا ایئر فورس سٹیشن‘ شمال مشرقی انڈیا میں انڈین فضائیہ کی اہم ترین تنصیبات میں سے ایک ہے اور یہ آسام سمیت پورے خطے میں فضائی آپریشنز کے لیے انتہائی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اگرچہ طیارے کے تباہ ہونے کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے لیکن اے این-32 طیاروں کا حادثات کا شکار ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اب تک انڈیا میں اس ماڈل کے قریباً 22 طیارے مختلف حادثات کا شکار ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: ڈیفنس سکیورٹی ایشیا)
انڈین فضائیہ کے بیڑے میں شامل اے این-32 طیاروں کا حفاظتی ریکارڈ طویل عرصے سے سوالات کی زد میں رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1986 سے لے کر اب تک انڈیا میں اس ماڈل کے قریباً 22 طیارے مختلف حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس طیارے کو پیش آنے والا حالیہ ترین حادثہ گزشتہ برس ہی رپورٹ ہوا تھا۔ ان تمام خطرات اور حادثات کے باوجود یہ جہاز اب بھی انڈین فضائیہ کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے مال بردار طیاروں میں شامل ہے اور ملک بھر میں لاجسٹکس اور آپریشنل مشنز میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند ماہ قبل ہی انڈین فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ ’سخوئی-30 ایم کے آئی‘ بھی آسام ہی کے ضلع کاربی اینگلونگ میں ایک تربیتی مشن کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ وہ حادثہ جورہاٹ ایئربیس سے محض 60 کلومیٹر دوری پر پیش آیا تھا۔