Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چوک اور گلیوں میں گونجتے لوک گیت، جدہ تاریخیہ میں مہمانوں کا پرتپاک استقبال

جدہ تاریخیہ میں آج کل رمضان المبارک کی راتوں میں مہمان نوازی اور ثقافت کے اعلٰی ترین مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
جیسے ہی اس قدیم مقام کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور لوگ اندر داخل ہوتے ہیں تو انھیں مستند لوک گیتوں اور حجاز کے گرم جوشی پر مبنی ورثے کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
افراد کا یہ اجتماع جلد ہی ایک ایسے رنگا رنگ اور زندگی سے بھرپور ثقافتی منظر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور شرکت کرنے والوں کو  ایک سفر کے ذریعے خوبصورت ماضی میں لے جاتا ہے۔
جدہ تاریخیہ کے چوک اور راہ گزاروں پر بڑی تعداد میں نوجوان مرد و زن روایتی حجازی لباس پہنے، لوک گیت گا کر اور دُھنیں سُنا کر مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ماضی میں اس طرح گرم  جوشی سے آنے والوں کو خوش آمدید کہنا جدہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کی ایک مخصوص روایت تھی۔
آج بھی یہاں آنے والوں کا استقبال ویسے ہی کیا جاتا ہے جس کے باعث رمضان کی راتوں میں ایسا غیر معمولی ماحول بن جاتا ہے جو روحانیت اور تفریح کے سنگم کی خوصورت شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ ثقافتی تجربہ اب صرف سننے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے جدہ تاریخیہ کے راستوں کو کھلے مقامات اور انٹرایکٹیو پلیٹ فارمز میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہاں آنے والے، خواہ یہاں کے رہائشی ہوں، عام شہری ہوں یا سیاح، فعال طریقے روایتی دُھنوں اور لوک نعروں سے گونجتی اس نغمگیں فضا میں شرکت کرتے ہیں۔ 

یہ خیر مقدمی ایونٹس اُن وسیع تر اور مسلسل کوششوں کے فریم ورک کے اندر آتے ہیں جن کا مقصد مملکت میں ثقافتی ورثے کو پھر سے زندہ کرنا اور اس مقام کی تاریخی اہمیت کو بڑھانا ہے جسے یونیسکو کی ’ورلڈ ہیریٹج سائٹ‘ کی منظوری بھی حاصل ہے۔
مقبولِ عام پرفارمنگ آرٹس کو لوگوں کے تجربات کے ساتھ جوڑنے سے، اس طرح کے انیشیٹیو نئی نسل کے لیے روایتی ثقافتی میراث کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی پتہ چلتا رہتا ہے کہ جدہ کی طویل تاریخ ایک گہری سماجی اور ثقافتی زرخیزی سے لبریز ہے۔
 

شیئر: