فرانس: عالمی دفاعی نمائش میں اسرائیلی کمپنیوں کے ایک درجن سٹال کیوں بند کیے گئے؟
فرانس: عالمی دفاعی نمائش میں اسرائیلی کمپنیوں کے ایک درجن سٹال کیوں بند کیے گئے؟
پیر 15 جون 2026 19:16
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق فرانس کے ’نامناسب‘ مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود سٹال بند کیے گئے (فوٹو:اے ایف پی)
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں پیر کے روز منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی دفاعی اور سکیورٹی نمائش میں اسرائیل کی ایک درجن کمپنیوں کے سٹال بند کر دیے گئے، جس پر اسرائیلی حکام نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی حالیہ کچھ عرصے سے برقرار ہے۔ فرانس نے گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے دو انتہائی دائیں بازو کے وزرا کے ملک میں داخلے پر پابندی بھی عائد کی تھی۔
نمائش کے منتظم ادارے کوگس ایونٹس نے اے ایف پی کو ایک بیان میں بتایا کہ یوروساٹری آرمز اور سکیورٹی ٹریڈ شو میں یہ سٹال ’فرانسیسی حکام کی طرف سے مقرر کردہ شرکت کی شرائط کی خلاف ورزی‘ کی وجہ سے بند کیے گئے۔
بیان کے مطابق ادارہ فرانسیسی حکام کے فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند تھا، اسی لیے ’12 سٹالز بند کرنا پڑے۔‘
کوگس ایونٹس کے سربراہ چارلس بوڈوئن نے کہا کہ ’فرانس نے 2026 کی نمائش میں اسرائیلی جارحانہ ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کو صرف بیلسٹک میزائلوں اور فضائی دفاع سے متعلق آلات اور مصنوعات نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔‘
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ ’کمپنیوں کی جانب سے فرانس کے ’نامناسب‘ مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود یہ پویلین بند کر دیے گئے۔
وزارت نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ وہ ’اسرائیلی ٹیکنالوجی کی برتری کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
اسرائیل کی اگرچہ تین بڑی دفاعی کمپنیوں، جن میں اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز اور رافیل شامل ہیں، کے سٹال پیر کے روز کھلے رہے، تاہم اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق وہاں دیگر ممالک کے برعکس ہتھیاروں کے ماڈلز عوامی طور پر نمائش کے لیے پیش نہیں کیے گئے۔
فرانس میں اسرائیلی سفیر نے اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے اس سلوک کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
اسرائیلی سفیر جوشوا زرکا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فرانس بین الاقوامی مارکیٹ کا بڑا حصہ کھو رہا ہے، اور اس کا جواب وہ غیر مناسب اور کھل کر غیر منصفانہ مسابقت کے ذریعے دے رہا ہے۔‘
اسرائیل نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیلی ٹیکنالوجی کی برتری کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ایک بند کیے گئے سٹال پر کمپنی ایمٹ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو امیت مانور نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر ’کافی حیران‘ ہیں۔
ان کے مطابق ان کی کمپنی ڈرونز، کمیونیکیشن سسٹمز اور روبوٹس میں استعمال ہونے والی برقی بیٹریاں تیار کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس سے قبل فرانسیسی حکومت کی ایک ٹیم نے انہیں سٹال لگانے اجازت دے دی تھی، لیکن بعد میں انہیں بتایا گیا کہ ’سٹال بند کر دیا گیا ہے۔‘
یوروساٹری نمائش 15 سے 19 جون تک پیرس کے شمال میں ایک ایگزیبیشن مرکز میں جاری ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 2024 میں بھی اسی تجارتی شو میں اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو شرکت سے روک دیا گیا تھا۔