فلسطینیوں کو تازہ خوراک کی فراہمی، سعودی عرب نے غزہ میں ’سینٹرل کچن‘ قائم کردیا
یومیہ 24 ہزار تازہ خوارک کے پارسل تیار کیے جا رہے ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز نے غزہ میں فلسطینی عوام کو خوراک کی فراہمی کے لیے بڑے رقبے پر ایک سینٹرل کچن قائم کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق غزہ پٹی میں قائم کچن میں رمضان المبارک کے آغاز سے یومیہ بنیادوں پر 24 ہزار تازہ خوارک کے پارسل تیار کیے جا رہے ہیں۔
سعودی سینٹرفارکلچر اینڈ ہیریٹج جو غزہ میں شاہ سلمان مرکز کا ایگزیکٹیو پارٹنر ہے، کے تعاون سے کچن بھی قائم کیا گیا ہے۔
تازہ خوراک منصوبے کے تحت 40 کے قریب مقامی افراد کو روزگار بھی میسرآیا ہے۔
شاہ سلمان امدادی مرکز کے نگران اعلی اور ایوان شاہی کے مشیر ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے ایس پی اے کو بتایا ’غزہ میں تاریخ کے سب سے بڑے انسانی المیے کے باعث فلسطینی عوام بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہو گئے۔‘

انہوں نے واضح کیا ’غزہ پٹی میں 90 فیصد فلسطینی غربت کی حد تک پہنچ چکے ہیں جس کا سبب وہاں امدادی اشیا کی ترسیل میں پیش آنے والی رکاوٹ ہے۔‘
انہوں نے بتایا ’غزہ پٹی میں شروع ہونے والے سانحے کے آغاز سے ہی سعودی قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت امدادی مہم کا آغاز کیا جس کےلیے فضائی، زمینی اور بحری تمام ذرائع استعمال کیے گئے۔‘
اس کے ساتھ فلسطینی برادر عوام کی امداد کے لیے حکومتی و عوامی سطح پرعطیہ مہم کا بھی اعلان کیا گیا۔

شاہی احکامات کے تحت 80 طیاروں اور بحری جہازوں کے ذریعے امدادی سامان جن میں خوراک، دوائیں اور دیگر اشیا شامل تھیں مصر اور اردن کے راستے روانہ کیے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے مزید کہا ’ہمیں انتہائی اہم منصوبے’سینٹرل کچن‘ کے آغاز پر فخر ہے، جس کے تحت پناہ گزینوں کے لیے یومیہ بنیاد پر تازہ خوراک کا بندوبست کیا گیا، کچن سے یومیہ بنیادوں پر 36000 خاندانوں کو تازہ کھانا فراہم کیا جائے گا۔‘
