Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وہاڑی میں مبینہ پولیس مقابلہ: افسران کے خلاف مقدمہ ’جوابدہی کی جانب اہم قدم‘

حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی باضابطہ گرفتاری ڈالنے کے بعد انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا (فوٹو:گیتی امیجز)
گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلوں کے واقعات پر جہاں بعض عوامی حلقے فوری انصاف کے تصور کو سراہتے نظر آئے، وہیں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔
بعض واقعات میں ایسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جہاں پولیس اہلکاروں نے بے گناہ افراد کو اپنی یا کسی اور کی رنجش کے باعث مقابلے میں قتل کر دیا۔ کچھ واقعات کی تحقیقات کے احکامات بھی جاری ہوئے لیکن ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
تاہم فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون کے تحت آنے والے علاقے میں ایک مبینہ پولیس مقابلے اور دورانِ حراست ہلاکت کے معاملے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جواب دہی پر بحث چھیڑ دی ہے۔
اب اس حوالے سے ایف آئی اے نے باقاعدہ مقدمہ بھی درج کر لیا ہے اور اس پولیس مقابلے میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری ڈالنے کے بعد ضابطے کے تحت انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایف آئی آر میں کیا ہے؟

ایف آئی اے کے کمپوزٹ سرکل ملتان میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق 29 نومبر 2025 کی صبح قریباً 7 بج کر 45 منٹ پر تھانہ ماچھیوال کی پولیس ٹیم نے ضلع وہاڑی کے چک نمبر 21 ڈبلیو بی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا۔
پولیس ٹیم کی قیادت اس وقت کے ایس ایچ او سب انسپکٹر رائے ساجد حسین کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ دیگر افسران و اہلکار بھی موجود تھے۔ چھاپے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں محمد ذیشان شبیر ایڈووکیٹ اور محمد حسنین جان کی بازی ہار گئے۔

پولیس مقابلوں کی تعداد اور طریقہ کار پر انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا اور عدلیہ نے  سوالات اُٹھائے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سی سی ڈی نے مقتولین کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف 302 کا مقدمہ درج کر دیا اور الزام لگایا کہ محمد ذیشان شبیر ایڈووکیٹ اور محمد حسنین اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے قتل ہوئے۔
 تاہم اس سرکاری بیانیے کو مقتول محمد ذیشان شبیر کی والدہ صفیہ بی بی نے چیلنج کیا اور ایف آئی اے سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ایک منظم اور دانستہ کارروائی تھی جس میں اُن کے بیٹے کو نشانہ بنایا گیا۔

’سب انسپکٹر نے ذیشان شبیر پر براہِ راست گولی چلائی‘

درخواست گزار کے بیان کے مطابق چھاپے کے دوران سب انسپکٹر رائے محمد ساجد نے ذیشان شبیر پر براہِ راست گولی چلائی جو کمر میں لگی اور سینے سے پار ہو گئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔
مزید الزام عائد کیا گیا کہ جب محمد حسنین اپنے کزن کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھے تو اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد جنید بھٹی نے ان کے سر کے پچھلے حصے پر گولی ماری جو سر کو چیرتی ہوئی آنکھ سے باہر نکلی۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دونوں زخمی اس وقت زندہ تھے لیکن انہیں فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور تاخیر کے باعث وہ دم توڑ گئے۔
سنگین نوعیت کے ان الزامات کے پیش نظر معاملہ مقامی پولیس سے لے کر ایف آئی اے کے سُپرد کیا گیا، جہاں انکوائری کا آغاز ہوا۔
تفتیش کے دوران اہل خانہ، آزاد گواہان، طبی افسران اور نامزد پولیس اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔

پولیس افسران کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں: ایف آئی اے

نامزد اہلکاروں کے ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے جبکہ دستیاب ویڈیو شواہد اور سرکاری ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انکوائری مکمل ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے قرار دیا کہ ’سب انسپکٹر رائے ساجد حسین (سابق ایس ایچ او تھانہ ماچھیوال) اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد جنید بھٹی کے خلاف بادی النظر میں قتل، شواہد مٹانے اور باہمی صلاح مشورے سے واردات کرنے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 149 اور 201  نیز ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کی دفعہ 9 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔‘
ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان زون کی منظوری کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ادارے کا مؤقف ہے کہ چھاپے میں شریک دیگر اہلکاروں کے کردار کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا اور اگر ان کے خلاف بھی شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پنجاب میں پولیس مقابلوں کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)

’اہلکاروں کی جوابدہی کو یقینی بنانے کی جانب اہم قدم‘

حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی باضابطہ گرفتاری ڈالنے کے بعد انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کے خلاف مقدمے کا باضابطہ آغاز ہوگا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق پنجاب میں حالیہ عرصے کے دوران سی سی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی اور عدالتی توجہ کے پیشِ نظر اس نوعیت کے مقدمات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
ان کے مطابق ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کے تحت مقدمات کا اندراج محض رسمی قانونی کارروائی نہیں بلکہ یہ اقدام ریاستی اہلکاروں کی مؤثر جوابدہی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا انجام مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر محمد اظہر خان مغل نے وہاڑی بار کے رکن ذیشان شبیر ڈھڈی ایڈووکیٹ کے قتل کے مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج اور ملزمان کی گرفتاری کو وکلا برادری کی کامیابی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج وکلا کے لیے خوشی کا دن ہے کیونکہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وکلا نے متحد ہو کر اس معاملے پر تحریک چلائی اور ہر سطح پر دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ دن دور نہیں جب ذیشان شبیر ڈھڈی ایڈووکیٹ کے قاتل انجام کو پہنچیں گے۔‘

اپریل سے دسمبر 2025 تک سینکڑوں پولیس مقابلے، متعدد ملزمان ہلاک

گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں پولیس مقابلوں، بالخصوص سی سی ڈی کی کارروائیوں کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔

پنجاب پولیس اور سی سی ڈی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جاتی ہیں (فوٹو: اے پی پی)

پنجاب پولیس کی جانب سے تاحال  پورے سال کے جامع اور حتمی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف میڈیا رپورٹس میں مبینہ پولیس مقابلوں کی بڑی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے۔
بعض آزاد جائزوں کے مطابق اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران سینکڑوں پولیس مقابلے رپورٹ ہوئے جن میں متعدد ملزمان ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں تاہم عوامی اور سماجی حلقوں میں ان پر بحث جاری ہے اور بعض طبقات ان کارروائیوں کو جرائم کے خلاف مؤثر اقدام بھی قرار دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا تشویش کا اظہار

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان اور دیگر سول سوسائٹی تنظیموں نے مبینہ ہلاکتوں کی تعداد اور مقابلوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہر واقعے کی آزادانہ اور شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
ان تنظیموں کے مطابق اگر مقابلوں میں ہلاکتوں کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ ہو اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نقصان نہ ہونے کے برابر ہو تو اس سے شفافیت اور طریقۂ کار پر سوالات اُٹھتے ہیں۔

پولیس اور سی سی ڈی حکام کیا کہتے ہیں؟

دوسری جانب پنجاب پولیس اور سی سی ڈی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق مسلح اور خطرناک ملزمان کے خلاف آپریشنز کے دوران جوابی فائرنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔

 

شیئر: