پاکستان ایران اور امریکہ مصالحت کروانے کے لیے متحرک، محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
پاکستان ایران اور امریکہ مصالحت کروانے کے لیے متحرک، محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
اتوار 7 جون 2026 16:00
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ایسے وقت پر ایران کا دورہ کر رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے (فوٹو: پی بی ایس نیوز)
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی سے ایک ایسے وقت پر ملاقات کی جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسلام آباد اپنی ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ محسن نقوی ہفتے کی شام تہران پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے ملاقات کی اور علاقائی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
پاکستان فروری میں شروع ہونے والی امریکہ اور ایران کی عسکری محاذ آرائی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے ثالثی کرنے کے علاوہ پیغامات کی ترسیل اور امن تجاویز کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔
پاکستانی وزیر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جو اپریل سے بڑی حد تک قائم نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
محسن نقوی کے سرکاری واٹس ایپ چینل نے ایک بیان میں کہا کہ ’وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔‘
چینل پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں محسن نقوی کو عباس عراقچی سے مصافحہ کرتے اور دوطرفہ ملاقات میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
‘خصوصی خط’
ہفتہ کی شب تہران پہنچنے کے بعد سکندر مومنی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ’وہ پاکستان کے آرمی چیف کی جانب سے ایک ’خصوصی خط‘ اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ایران کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے آئے ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں یہاں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی طرف سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک خصوصی خط اور موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے وزیر اعظم کا پیغام پہنچانے آیا ہوں۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’انہوں نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس، جہاں امریکی افواج موجود ہیں، اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔‘ بحرین اور کویت دونوں نے ایران کے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے بھی ملاقات کی اور علاقائی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا (فوٹو: ایرانی وزارتِ داخلہ)
امریکی فوج کے مطابق جمعہ کو اس نے آبنائے ہرمز اور خلیجی اتحادیوں کی طرف داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا، جبکہ جواباً ایران کے ساحلی نگرانی کے کچھ ریڈار مراکز کو نشانہ بنایا۔
ہفتہ کو محسن نقوی کی سکندر مومنی سے ملاقات تین دنوں میں تیسری ملاقات تھی۔ اس سے قبل دونوں رہنمائوں کے درمیان دو ملاقاتیں اسی ہفتے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر ہو چکی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ کرے۔
پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم یہ بات چیت کسی ٹھوس پیش رفت پر منتج نہیں ہو سکی تھی۔