24 نشستیں 396 امیدوار، گلگت بلتستان میں پولنگ جاری
24 نشستیں 396 امیدوار، گلگت بلتستان میں پولنگ جاری
اتوار 7 جون 2026 11:26
گلگت بلتستان میں چند روز کافی سیاسی گہماگہمی دیکھنے میں آ رہی ہے (فوٹو: صفدر علی شیرازی)
پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔
اطلاعات کے مطابق ووٹر پولنگ کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی پولنگ سٹیشنز پر پہنچ چکے تھے اور کافی جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں پچھلے چند روز سے کافی سیاسی گہماگہمی دیکھنے میں آ رہی تھی اور اس کی وجہ بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے وہاں ڈیرے ڈالنا تھا، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وہاں پہنچے اور نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ دیگر قائدین نے بھی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ’ناانصافی اور انتقامی کارروائیوں‘ کی شکایت کرتی نظر آئی۔
انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ تمام اضلاع میں ایک ہزار تین سو 91 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے تین سو 49 کو حساس جبکہ پانچ سو 51 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں پر مجموعی طور پر 396 امیدواروں میں مقابلہ ہے اور مجموعی طور پر نو لاکھ 59 ہزار چار سو 80 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے 23 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے 22، استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جعیت علمائے اسلام کے نو امیدوار الکشن لڑ رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں پر مجموعی طور پر 396 امیدواروں میں مقابلہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح ایم ڈبلیو ایم، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم بھی بالترتیب سات اور چھ چھ امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہیں جبکہ مختلف حلقہ جات سے دو سو 66 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
بعض پولنگ سٹیشنز کو حساس اور کچھ کو انتہائی حساس قرار دیے جانے کے بعد سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں، تمام پولنگ سٹیشنز پر مقامی پولیس کے اہلکار موجود ہیں جبکہ جی بی سکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔
گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت اور معاہدہ کراچی
گلگت بلتستان پاکستان کا ایک ایسا خطہ ہے جو آئینی اعتبار سے ایک حساس اور پیچیدہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ پاکستان کا باقاعدہ صوبہ نہیں ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 1 میں پاکستان کی جو جغرافیائی تعریف کی گئی ہے اس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا واضح الفاظ میں ذکر نہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 257 کے تحت یہ (انڈیا اور پاکستان کے درمیان) متنازع ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
آج نو لاکھ 59 ہزار چار سو 80 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں (فوٹو: گلگت بلتستان اسمبلی)
یہ خطہ نومبر 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف کامیاب بغاوت کے بعد 16 روز کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست بھی رہا تھا۔ گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر 28 اپریل 1949ء کو طے پانے والے ’معاہدہ کراچی‘ کے تحت پاکستان کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر پاکستان کے نمائندوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی حکومت نے دستخط کیے تھے جس نے اس انتظامی ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔
انتخابی معرکے میں کس کا پلّہ بھاری ہے؟
اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سب سے نمایاں حریف کے طور پر آمنے سامنے ہیں اور دونوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔