کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، پولیس کا حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، پولیس کا حملہ آور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
ہفتہ 6 جون 2026 16:07
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں تیزاب حملے میں خاتون ڈاکٹر سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ حملے میں ملوث ملزم کو تعاقب کے بعد ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی دوپہر کو کوئٹہ میں جناح روڈ پر واقع صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سول سنڈیمن ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں پیش آیا جہاں ڈاکٹر ماہ نور ناصر ایک کمرے میں موجود تھیں۔
سرکاری حکام کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک شخص کو سرجیکل وارڈ میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق ملزم ایک کمرے کے بند دروازے پر دستک دیتا ہے اور دروازہ کھلتے ہی بوتل میں موجود کیمیکل اندر پھینک کر فرار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد خاتون ڈاکٹر درد سے تڑپتی ہوئی کمرے سے باہر نکلتی ہیں اور مدد طلب کرتی ہیں۔
حملے میں عبدالرزاق خلجی نامی ایک شخص بھی معمولی زخمی ہوا۔
بعد ازاں پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت ضلع نوشکی کے رہائشی ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی جو ہسپتال میں بطور لفٹ آپریٹر کام کرتا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق حملے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
واقعے کے بعد زخمی ڈاکٹر کو ابتدائی طور پر ٹراما سینٹر اور پھر ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینکا گیا جس سے ان کے جسم کا تقریباً 35 فیصد حصہ جھلس گیا۔
وزیراعلی نے کہا کہ حکومت متاثرہ ڈاکٹر کے علاج، بحالی اور ہر ممکن معاونت کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا۔ اس دوران کیچی بیگ تھانے کی حدود میں نوشکی بس اسٹاپ کے قریب ملزم ہمایوں شاہ کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم اس نے گرفتاری دینے کے بجائے پولیس پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا دعوی ہے کہ جوابی کارروائی میں ہمایوں شاہ ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور متعدد کارتوس برآمد کیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور دلخراش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر سرجری کے شعبے میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کررہی تھیں جن پر لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینکا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ڈاکٹر کا کراچی میں حکومتی خرچ پر علاج کرایا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متاثرہ ڈاکٹر کے علاج کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے انہیں کراچی منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ سرکاری حکام کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں کراچی منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد میں ملوث عناصر کے لیے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں۔ تیزاب گردی کے واقعہ میں ملوث ملزم اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ حکومت متاثرہ ڈاکٹر کے علاج، بحالی اور ہر ممکن معاونت کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گی۔
ادھر واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایمرجنسی سروسز کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں دیگر تمام طبی خدمات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
وائی ڈی اے کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے ہسپتالوں مخم سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کی چاردیواری کے اندر بھی ڈاکٹرز خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ خاتون ڈاکٹر کو قتل کرنے کی سازش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زخمی خاتون ڈاکٹر کا علاج اسی سرکاری ہسپتال میں ہوتا مگر اسے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
وکلاء اور سیاسی تنظیموں نے بھی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے کے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔