پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرین کے سرگرم پلیٹ فارم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ (JAAC) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خطے میں تناؤ کی فضاء قائم ہے، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مختلف اضلاع میں صورتحال کہیں پرامن تو کہیں بدستور احتجاجی دھرنوں کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے کشمیری مہاجرین کی نشستوں سے متعلق واضح کیا ہے کہ صرف اسمبلی ہی ترمیم کر سکتی ہے۔
راولاکوٹ میں کمیٹی کے ایک رہنما شاہ زیب حبیب کی فائرنگ کے واقعے میں ہلاکت اور سردار عمر نذیر کے زخمی ہونے کے بعد سنیچر کی شب جے اے اے سی نے 9 جون کے شیڈولڈ احتجاج کا انتظار کیے بغیر پونچھ ڈویژن میں مکمل لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا جبکہ ان کا طے شدہ لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق نو جون سے ہی شروع ہو گا۔
مزید پڑھیں
دارالحکومت میں امن و امان، پونچھ کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال
مظفرآباد کے مقامی صحافی سید وقاص کاظمی نے بتایا کہ ’دارالحکومت میں ماحول مجموعی طور پر پرامن ہے اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اتنی ہی ہے جتنی عام طور پر اتوار کے روز ہوتی ہے جبکہ کچھ دکانیں کھلی اور کچھ بند ہیں۔‘
دوسری جانب گزشتہ شب عوامی ایکشن کمیٹی پونچھ نے اپنے اعلامیے میں پونچھ ڈویژن میں رات 12 بجے سے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
مقامی شہریوں کے مطابق اس وقت پونچھ میں جزوی شٹر ڈاؤن ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم پونچھ میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کسی ناخوشگوار واقعے کی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے فی الحال اس تازہ ترین صورتحال پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
انٹرنیٹ سروسز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خطے میں سلیولر اور فائبر انٹرنیٹ سروسز اب بھی مکمل طور پر بند ہیں البتہ موبائل فونز کے نیٹ ورک جزوی طور پر بحال ہیں لیکن شہریوں کو آپس میں رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ غیر معمولی کشیدگی ایک ایسے وقت میں عروج پر پہنچی ہے جب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی 2026 کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

راولاکوٹ میں لاش کے ساتھ دھرنا
راولاکوٹ کے سی ایم ایچ چوک میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شاہ زیب حبیب کی لاش کے ساتھ مظاہرین کا دھرنا بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی جانب سے بھی اس صورت حال پر ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

چھ جون کو بیرون ملک مقیم عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں نے برطانیہ میں ایک پریس کانفرنس کی جبکہ کینیڈا میں بھی مظاہرین نے کمیٹی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
سکیورٹی فورسز کی آمد اور گرفتاریاں
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس کے ترجمان کے سنیچر (چھ جون) کے بیان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مہم کے تحت کالعدم جے اے اے سی سے وابستہ 72 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں کن کن شہروں سے کی گئی ہیں۔
کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے بھیجی گئی پولیس، رینجرز اور ایف سی کی گاڑیاں مختلف شہروں میں پہنچ چکی ہیں اور فلیگ مارچ کیے جا رہے ہیں۔
وفاق کی طرف سے فورسز بھیجے جانے کی تصدیق اسلام آباد پولیس کے ایک حالیہ سرکاری آرڈر سے بھی ہوتی ہے جس کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کو ’کشمیر الیکشن ڈیوٹی‘ پر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
حقوق کے نام پر انتشار کا فائدہ انڈیا اٹھائے گا: وزیراعظم کشمیر
اس تمام صورتحال پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات یا تو مکمل یا جزوی طور پر تسلیم کیے۔ ہم نے بہت زیادہ رعایت دی حتیٰ کہ وفاقی ہائی پاور کمیٹی کے رکن رانا ثناء اللہ بھی اتنے مطالبات ماننے پر حیران رہ گئے لیکن کمیٹی اپنا موقف چھوڑنے کو تیار نہیں تھی، اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے پابندی ناگزیر تھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حقوق کے نام پر ریاست میں انتشار پیدا کرنے کا سب سے زیادہ فائدہ انڈیا اٹھائے گا جو کسی صورت مناسب نہیں ہے۔‘

فیصل ممتاز راٹھور اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں وہ مختلف وفود سے ملاقاتوں کے علاوہ اہم مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ سنیچر کی شام وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی صدارت میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں سیاسی و انتظامی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جس میں پارلیمانی پارٹی کے 20 سمیت 27 ارکان نے شرکت کی۔
کوئی بھی ترمیم اسمبلی سے ہی ممکن ہے: کشمیر سپریم کورٹ
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے قائم مقام صدر کی جانب سے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق دائر کردہ ریفرنس پر کشمیر سپریم کورٹ نے اتوار کو رائے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’کشمیر کا آئین ریاست کا اعلیٰ ترین قانون اور عوام کی امانت ہے جس کا ہر حال میں احترام لازم ہے۔‘
عدالت نے کہا کہ ’مہاجرین کی نشستوں سمیت آئین میں کوئی بھی ترمیم دباؤ کے تحت نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کی حامل اسمبلی کے ذریعے، باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔‘
سپریم کورٹ نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ آئین کے مقرر کردہ وقت کے اندر انتخابات کرانے کی قانونی ذمہ داری پوری کرے۔‘
عدالت نے تاکید کی ہے کہ ’آئین کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال یا پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا اور اس کا تحفظ حکومت، عدلیہ اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘
دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ (ایچ آر سی پی) نے جے اے اے سی کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر بنیادی آزادیوں، اظہارِ رائے اور تنظیم سازی کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘

تنازع کا پس منظر اور 9 جون کی کال
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ گزشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید تصادم ہوا تھا جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
اس بحران کے حل کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد بھیجی تھی جس کے بعد اسلام آباد اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مطالبات کی منظوری کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
تاہم رواں برس عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مظفرآباد میں کئی گھنٹوں پر محیط مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوئے جس کے بعد کمیٹی نے 9 جون کو تمام اضلاع سے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی کال برقرار رکھی تھی۔












