Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کیے مگر انہوں نے حالات بگاڑنے کی کوشش کی، وفاقی وزیر طارق فضل

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں تین مطالبات پیش کیے تھے جنہیں حکومت نے پورا کیا، تاہم بعد میں گزشتہ برس احتجاج کے دوران 38 مطالبات سامنے لائے گئے جن پر ریاست اور  ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
اتوار کو اسلام آباد میں انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیر نبیلہ ایوب اور ممبر قانون ساز اسمبلی سردار عتیق احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے فائننس کمیٹی کو فوری طور پر معاہدے پر عملدرآمد کی ہدایت کی تھی، لیکن اس کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حالات بگاڑنے کی کوشش کی اور دوبارہ ہڑتال کی کال دے دی۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسئلے کے حل کے لیے چار مختلف آپشنز دیے اور واضح کیا کہ 12 افراد بند کمرے میں بیٹھ کر مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘
ان کے بقول ’ایکشن کمیٹی کو اسمبلی اور عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ بھی تجویز کیا گیا اور ہڑتال 10 روز تک مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم کمیٹی اپنے فیصلے پر قائم رہی۔‘
طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’گزشتہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد درج مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ پورا کیا گیا، مظاہروں میں شریک ملازمین کو بحال کیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضے اور ملازمت کی فراہمی کے وعدے بھی پورے کیے گئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آزاد کشمیر میں تین روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، آٹے کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے اور انٹرنیٹ سروسز کی بہتری کے لیے سو فیصد کام کا آغاز ہو چکا ہے۔‘
ان کے مطابق آزاد کشمیر کے نو اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ تعاون معاہدے کا حصہ تھی، تاہم کمیٹی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی تجاویز موصول نہیں ہوئیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لیے مظفرآباد اور پونچھ میں تعلیمی بورڈز قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ وزیراعظم کی جانب سے ہیلتھ کارڈ پروگرام کا بھی اجرا کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عوامی ایکشن کمیٹی کا کابینہ کے حجم میں کمی کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے محکموں کی تعداد 35 سے کم کر کے 22 کر دی گئی ہے۔‘
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ’آزاد کشمیر میں دو اہم ٹنلز کی فزیبلٹی پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ میرپور ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔‘

’مسئلہ کشمیر کے حتمی حل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا‘

پاکستان کے زیراتنظام کشمیر کے سابق وزیراعظم اور ممبر قانون ساز اسمبلی سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف آج بھی مضبوط اور واضح ہے۔
سردار عتیق احمد خان نے ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آج پوری دنیا پاکستان کے کردار اور مؤقف کی معترف ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا دراصل انتخابی تناسب میں تبدیلی کے مترادف ہے۔‘
ان کے مطابق ’مہاجرین کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق سے جڑا ہوا ہے اور انہیں حاصل حقوق کا تعلق آزاد کشمیر حکومت سے نہیں بلکہ ان کے آئینی اور قانونی تشخص سے ہے۔‘
سردار عتیق احمد خان نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا کے سابق جنرل بخشی نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کی ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جمہوری معاشروں میں مطالبات مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے منوائے جاتے ہیں، ہاتھ میں ڈنڈا اور پستول لے کر مطالبات منوانے کی کوشش قبول نہیں کی جا سکتی۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’کشمیری عوام سے محبت اور احترام کے جذبے کے تحت پاکستان نے ماضی میں عوامی مطالبات تسلیم کیے اور اس ضمن میں فراخدلی کا مظاہرہ کیا، تاہم تمام معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل ہونے چاہیے۔‘

شیئر: