متفقہ طور پر دوبارہ کھلنے کے بعد آبنائے ہرمز: چند اہم حقائق
آبنائے ہرمز کی صورت حال سے متعلق تازہ ترین اہم حقائق درج ذیل ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے جسے ایران نے اس شرط پر دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ امریکہ-اسرائیل حملے بند کر دیے جائیں اور اب تک اس میں سے دو جہاز گزر چکے ہیں۔
امن کے زمانے میں عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی راستے سے گزرتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو اس وقت بھڑک اٹھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی جس کے جواب میں تہران نے خطے بھر میں حملے کیے اور آبنائے ہرمز تک رسائی محدود کر دی۔
پانچ ہفتوں سے زائد گزر جانے کے باوجود سینکڑوں جہاز ہزاروں ملاحوں سمیت اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان منگل اور بدھ کی درمیانی شب دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ڈیڈ لائن سے ایک گھنٹہ پہلے طے پایا جس میں انہوں نے امریکی جنگی مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
بدھ کے روز بحری نگرانی کرنے والے ادارے ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے تحت آبی راستہ کھولنے پر رضامندی کے بعد دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔
میرین ٹریفک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’یونانی ملکیت کا بلک کیریئر ’این جے ارتھ‘ 08:44 یو ٹی سی پر آبنائے سے گزرا جبکہ لائبریا کے پرچم بردار ’ڈیٹونا بیچ‘ اس سے قبل 06:59 یو ٹی سی پر گزرا جو 05:28 یو ٹی سی پر بندر عباس سے روانگی کے فوراً بعد تھا۔‘
بحری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کیپلر‘ کے مطابق یکم مارچ سے 7 اپریل تک اوسطاً یومیہ آٹھ اجناس بردار جہاز آبنائے سے گزرے جو امن کے زمانے کے مقابلے میں تقریباً 95 فیصد کمی ہے۔
اس عرصے میں کل 307 گزرگاہوں میں سے 199 تیل اور گیس کے ٹینکرز تھ، اور ان میں سے زیادہ تر خلیج عمان کی سمت مشرق کی جانب جا رہے تھے۔ ہر دس میں سے چھ گزرگاہیں ایسے جہازوں کی تھیں جو ایران سے آ رہے تھے یا ایران کی جانب جا رہے تھے۔
کیپلر کے اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کے تجزیے کے مطابق کارگو لے جانے والے ٹینکرز کے لیے یہ تناسب بڑھ کر ہر دس میں سے آٹھ ہو جاتا ہے۔
بدھ کی صبح شائع ہونے والے شپنگ جریدے ’لوئڈز لسٹ‘ کے مطابق کچھ جہاز مالکان اور چارٹررز خلیج میں پھنسے اپنے جہازوں کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ فروری کے اختتام سے اب تک تقریباً 800 جہاز خلیج میں پھنسے رہے ہیں۔
کیپلر کے مطابق 7 اپریل تک عرب-عرب خلیج میں تقریباً 187 ٹینکرز پر مشتمل 172 ملین بیرل خام اور ریفائنڈ مصنوعات سمندر میں موجود تھیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں رسد کی سب سے شدید رکاوٹ پیدا کی ہے۔
اے ایف پی کی جانب سے آئی ای اے اور کیپلر کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق یکم مارچ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے خام اور ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر اوسطاً 2.6 ملین بیرل رہ گئی ہے۔
کیپلر نے بدھ کو ایکس پر کہا کہ ’اگرچہ جنگ بندی سے آمد و رفت کے لیے ایک موقع پیدا ہوا ہے، تاہم ترسیل اب بھی شرائط سے مشروط اور عملی طور پر محدود ہے۔ زیر التوا کارگو کے حجم اور نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خام تیل کی برآمدات آگے رہیں گی، جبکہ محدود گزرگاہ اور غیر شفاف نقل و حرکت کے انداز بدستور منڈی کی واضح تصویر کو پیچیدہ بناتے رہیں گے۔‘
ایران کی پاسداران انقلاب نے سنیچر سے اب تک جہازوں پر تین حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں سے ایک کی تصدیق بین الاقوامی بحری تنظیم نے کی ہے۔
تازہ ترین تصدیق شدہ واقعہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ’چنگ ڈاؤ اسٹار‘ سے متعلق ہے۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق اسے منگل کی صبح ایک ’نامعلوم میزائل‘ نے نشانہ بنایا جس سے پانی کی سطح سے اوپر والے حصے کو نقصان پہنچا۔
بین الاقوامی بحری تنظیم یو کے ایم ٹی او اور وینگارڈ ٹیک کے مطابق یکم مارچ سے اب تک خلیج، آبنائے ہرمز یا خلیج عمان میں مجموعی طور پر 30 تجارتی جہاز جن میں 13 ٹینکرز شامل ہیں،حملوں یا واقعات کا نشانہ بن چکے ہیں یا ان کی اطلاع دی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے عمان کے ساحل کے قریب گزرنے والے تین عمانی ٹینکرز کے علاوہ حالیہ گزرگاہوں میں بظاہر ایک مختلف راستہ استعمال کیا گیا جسے ایران کی منظوری حاصل ہے اور جو ملک کے ساحل کے قریب واقع ہے۔
کیپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعے سے اب تک ٹرانسپونڈر آن رکھنے والے تمام جہازبشمول جنگ بندی کے بعد گزرنے والے دونوں جہاز، اسی راستے سے گزرے جو جزیرہ لارک کے قریب واقع ہے، جسے لوئڈز لسٹ نے ’تہران ٹول بوتھ‘ کا نام دیا ہے۔
لوئڈز لسٹ کی تجزیہ کار برجٹ ڈیاکن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کم از کم دو ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں جہازرانوں نے گزرنے کی اجازت کے لیے ایران کو ادائیگی کی جبکہ دیگر ممکنہ طور پر ’سفارتی مذاکرات‘ کے ذریعے راستہ حاصل کر رہے تھے۔
