کائنات الماری کے کونے میں رکھا ایک پُرانا شاپر نکالتے ہی اپنے شوہر کے سامنے کھولنے لگیں۔ اس شاپر کے اندر تہہ در تہہ شاپر تھے جس کے آخری شاپر میں ایک کپڑا ڈوریوں سے بندھا ہوا تھا۔
جب انہوں نے ڈوریاں کھولیں تو اس کے اندر سے بچوں کا ایک پُرانا سُوٹ نکل آیا۔ یہ سُوٹ دیکھتے ہی اُن کے شوہر محمد سہیل کی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ وہی سُوٹ ہے جس کی بدولت 20 برس سے لاپتا کائنات اپنے بچھڑے خاندان کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئیں۔
مزید پڑھیں
-
کرتار پور راہداری نے پاکستانی، انڈین کزنز کو 76 برس بعد ملوا دیاNode ID: 805966
پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں بیاہی گئی کائنات شادی کے بعد شوہر کو اپنی کہانی سنا رہی تھیں۔ کائنات سہیل کا تعلق گلگت سے ہے لیکن آج سے قریباً 20 برس قبل انہیں اغوا کر کے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں داتا دربار لایا گیا۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ’میرا پیارا ٹیم‘ کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ جب سنہ 2005 میں کائنات کو داتا دربار لایا گیا تو اغوا کار رکشہ ڈھونڈنے باہر نکلے۔'
'اس دوران کائنات نے وہاں ایک خاتون سے مدد طلب کی۔ خاتون نے بچی کے ورثا کو تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم جب کوئی نہیں ملا تو وہ اُسے اپنے ساتھ لے گئی۔
'اس وقت کائنات کی عمر لگ بھگ 4 سے 5 سال تھی اور اس وقت وہ صرف شینا زبان بول سکتی تھیں، جو گلگت کے مخصوص علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ زبان کے اس اِشارے کے باوجود اُن کی شناخت ایک معمہ ہی بنی رہی۔‘
وقت گزرتا گیا اور وہ بچی جوان ہوتی گئی۔ محمد سہیل پنجاب کے ضلع کوٹ ادو سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس خاتون نے کائنات کو اپنے گھر میں پناہ دی وہ سہیل کی دُور کی رشتہ دار تھیں۔
اس خاتون کے ہاں ایک فوتگی پر جب محمد سہیل اُن کے گھر آئے تو انہوں نے کائنات کو پہلی بار دیکھا۔ اس حوالے سے انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ میں کائنات کے قریب گیا اور اُن سے رونے کی وجہ دریافت کی۔
’کائنات بتایا کہ میں اس طرح اغوا ہوئی تھی اور اب یہاں یہ خاتون میری شادی بڑی عمر کے ایک شخص سے کروانا چاہتی ہے۔ میں نے اسے تسلی دی اور کچھ پیسے بھی دیے۔‘
اس گفتگو کے بعد محمد سہیل کائنات کے ساتھ رابطے میں رہے اور پھر ایک روز انہیں کہا کہ اگر آپ پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ ہمارے ہاں آجائیں۔ یوں کائنات سوچ بچار کے بعد اُن کے گھر چلی گئیں۔

وہ بچی اُن کے گھر آگئی اور جب وہ بالغ ہوئی تو خاندان کے مشورے اور اس کی رضامندی سے اُس کا نکاح محمد سہیل سے ہو گیا۔
کائنات کے لیے یہ زندگی کا ایک نیا باب تھا لیکن ماضی کے زخم اب بھی کہیں نہ کہیں موجود تھے۔ ان کے شوہر کے مطابق وہ ڈپریشن کا شکار رہتیں، بلڈ پریشر بڑھ جاتا اور اکثر خاموشی میں ڈُوب جاتیں۔
محمد سہیل کہتے ہیں کہ ’میں ملتان سے اہلیہ کے لیے دوائیں لاتا اور ان کی دِل جوئی کی کوشش کرتا تاکہ یہ خوش رہیں۔ پھر ایک روز انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے میرے لیے کیا کیا؟ کیا آپ مجھے میرے خاندان سے ملوا سکتے ہیں؟'
’کائنات نے الماری سے ایک شاپر نکالا جس میں ایک سُوٹ تھا۔ محمد سہیل بتاتے ہیں کہ تہہ در تہہ شاپرز سے سُوٹ نکالنے کے بعد اہلیہ نے بتایا کہ جب میں اغوا ہوئی تو اس وقت میں نے یہی سُوٹ پہن رکھا تھا اور اسے آج تک سنبھال کے رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔‘
محمد سہیل بتاتے ہیں کہ ایک روز راولپنڈی کے سفر کے دوران میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی اہلیہ کو اُن کے خاندان سے ملوانے کی کوشش کروں گا۔
اسی تلاش کے دوران محمد سہیل کو سوشل میڈیا پر میرا پیارا پلیٹ فارم نظر آیا جہاں بِچھڑے ہوئے افراد کو اُن کے اہلِ خانہ سے ملوانے کی ویڈیوز موجود تھیں۔
یہ پلیٹ فارم دراصل پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سیف سٹی ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا حصہ ہے جو اب تک 64 ہزار سے زائد بچوں، بزرگوں اور ذہنی معذور افراد کو اُن کے اہل خانہ سے ملوا چکا ہے۔

محمد سہیل نے اس ٹیم سے رابطہ کیا اور پھر 'میرا پیارا' ٹیم نے کائنات کا انٹرویو کیا۔ میرا پیارا ٹیم کے ترجمان بتاتے ہیں کہ 'کائنات کا ویڈیو انٹرویو لیا گیا اور ان سے تفصیلات جمع کی گئیں۔
کائنات نے بتایا کہ ان کے والد کوئی کام کرتے تھے اور ہفتے بعد گھر واپس آتے تھے جبکہ ان کے چار بھائی اور ایک بہن بھی تھی۔ حکام کو اس سُوٹ کی تصویر بھی دی گئی جو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔
میرا پیارا کے ترجمان کے مطابق ’ہماری ٹیم نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی اور گلگت پولیس سے بھی رابطہ کیا۔ گلگت پولیس کو بتایا گیا کہ جہاں شینا زبان بولی جاتی ہے وہاں سے معلومات اکٹھی کی جائیں۔ یوں ہمارا پیغام گلگت بھر میں پھیلنے لگا۔‘
اس مہم کے چند ہی روز بعد ایک خاندان نے سوشل میڈیا پر یہ تفصیلات دیکھیں اور دعویٰ کیا کہ یہ اُن کی گم شدہ بیٹی ہو سکتی ہے۔
تمام کوائف اور معلومات جمع کرنے کے بعد وقتی طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ رابطہ کرنے والے ہی کائنات کے ورثا ہیں۔
محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ’فون پر بات چیت کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ کائنات کے کچھ رشتہ دار لاہور میں بھی رہتے ہیں۔ ان میں سے 50 سے زائد خواتین کائنات سے ملنے آئیں اور پھر اُن کے والدین کو بھی بلایا گیا۔‘
جب کائنات اپنے والدین سے ملیں تو الفاظ جیسے بے معنی ہو گئے۔ آنکھوں سے بہتے آنسو ہی سب کچھ بیان کر رہے تھے۔ کائنات کی شناخت کی تصدیق کے لیے وہی سُوٹ بھی دکھایا گیا جسے انہوں نے برسوں سے سنبھال کر رکھا تھا۔













