Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ارُومچی مذاکرات: پاکستان اور افغانستان نے فوجی کشیدگی سے بچنے پر اتفاق کیا ہے: چین

حالیہ دنوں میں چین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان نے فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس پیش رفت سے متعلق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کی جانب سے بدھ کو آگاہ کیا گیا۔
دونوں ہمسایہ اور ماضی میں اتحادی رہنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان نے الزام لگایا کہ افغانستان سرحد پار حملوں میں ملوث شدت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے، جس کی طالبان حکومت تردید کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان فروری کے آخر میں حالات اس وقت زیادہ کشیدہ ہو گئے جب پاکستانی فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان نے زمینی کارروائی شروع کی، اور پاکستان نے اِسے “کھلی جنگ” قرار دیا۔
16  مارچ کو کابل کے ایک ہسپتال پر پاکستان کے فضائی حملے میں مبینہ طور پر سینکڑوں افراد مارے گئے تھے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک سے تنازع ختم کرنے کے لیے بات چیت کی اپیلیں کی گئیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں نے ایک ہفتے (یکم سے 7 اپریل) تک ارومچی میں غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تینوں وفود نے “مثبت ماحول میں مخلصانہ اور عملی مذاکرات” کیے۔ افغانستان اور پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ جلد سے جلد اپنے اختلافات حل کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے صورتِ حال مزید خراب ہو۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے سفارت کار ان مذاکرات کا ذکر کر چکے ہیں، تاہم چین کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
عیدالفطر پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ بندی 24 مارچ کو ختم ہو گئی تھی۔
اس لڑائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی سرحد قریباً مکمل طور پر بند رہی، جس کے باعث دونوں ممالک کی معیشت پر بھی منفی اثرات مُرتب ہوئے۔

شیئر: