ایران کا آبنائے ہرمز استعمال کرنے والوں کے لیے متبادل روٹس کا اعلان
ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد مارچ کے اوائل میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے متبادل روٹس کا اعلان کیا اور اس کی وجہ مرکزی حصے میں پانی کے اندر بارودی سرنگوں کی موجودگی کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تہران نے عارضی طور پر آبنائے ہرمز پر اتفاق کیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کے حوالے بہت اہمیت کی حامل ہے اور یہاں سے دنیا کی تجارت کا پانچ فیصد حصہ گزرتا ہے۔
آبی گزرگاہ کو کھولنا اس دو ہفتے کی جنگ بندی کی ڈیل کا حصہ ہے جس پر ایک روز قبل ہی ایران اور امریکہ نے رضامندی ظاہر کی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے راستے آنے جانے والے تمام بحری جہازوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سمندری سفر میں حفاظتی اصولوں کے تحت اور ممکنہ طور پر بارودی سرنگوں کی زد میں آنے سے بچاؤ کے لیے وہ متبادل راستے اختیار کریں۔‘
بیان میں نئے راستوں کے داخلی اور خارجی مقامات کے بارے میں بھی ہدایات شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ڈیڈلائن کے ختم ہونے سے ایک گھنٹہ ممکن ہوا تھا، جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولنے کی صورت میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
تہران نے مارچ کے اوائل سے ہی اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس سے توانائی کے ذرائع کی تجارت بری طرح متاثر ہوئی تھی اور پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔