ایران کو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: سعودی کابینہ
سعودی کابینہ کا اجلاس منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کیا گیا(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ وہ دارالحکومت اور مشرقی صوبوں کو نشانہ بنانے کے ’صریح اور بزدلانہ‘ حملوں کے سلسلے کے بعد ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا ’مکمل حق‘ محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ انتباہ منگل کو رات گئے ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارات ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کی۔
اجلاس کے دوران کابینہ نے علاقائی خطرات کے خلاف متحدہ محاذ کا اشارہ دیتے ہوئے ’ان برادر ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا جن کے علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بنا گیا ہے۔‘
کابینہ نے خطے کی صورتحال، علاقائی و بین الاقوامی سلامتی اور استحکام پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔
کابینہ نے کہا کہ ’سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع، اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
کابینہ کو حالیہ علاقائی صورتحال اور اس کے سنگین اثرات کے حوالے سے ہونے والے رابطوں اور مشاورت سے آگاہ کیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق کابینہ نے ایرانی جارحیت کا نشانہ بننے والے ملکوں کے ساتھ یکجہتی اور سپورٹ کا اعادہ کیا۔
برادر اور دوست ملکوں کے رہنماوں کی جانب سے سعودی عرب، جی سی کے ممالک اور اردن پر ایران کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کو سراہا گیا۔

یہ اجلاس معاندانہ حملوں میں ڈرامائی اضافے کے بعد ہوا ہے، جس میں ریاض میں امریکی سفارت خانے پر براہ راست ڈرون حملہ بھی شامل تھا۔
وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ ریاض اور الخرج کے قریب آٹھ ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔
امریکی سفارت خانے کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، حملے کے نتیجے میں عمارت میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان پہنچا۔
کابینہ نے مملکت کے ایئرپورٹس پر پھنسے خلیجی شہریوں کی مہمان نوازی کی کوششوں کا جائزہ لیا تاکہ ان کے ملکوں میں محفوظ اور باوقار واپسی تک ان کے دوسرے گھر میں آرام کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کی حکومت کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون سعودی اینٹی کرپشن اتھارٹی اور پاکستان کے احتساب ادارے ’نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو‘ کے مابین بدعنوانی کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشتوں کی منظوری دی۔
