Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترک صدر اردوغان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا نسلی کشی کے الزامات کا تبادلہ

صدر اردوغان نے نیتن یاہو کو ’ہٹلر کے راستے پر چلنے والا‘ قرار دے دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان اور اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان سخت الزامات کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر شدید سیاسی اور اخلاقی حملے کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تنازع اس وقت مزید بڑھا جب اسرائیلی وزیرِاعظم نے ترکیہ کے صدر کو ’اینٹی سیمیٹک ڈکٹیٹر‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ کردوں کے خلاف ’نسل کشی‘ کے مرتکب ہیں اور حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ترکی میں سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور داخلی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔
اس کے جواب میں صدر اردوغان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے نیتن یاہو کو ’ہٹلر کے راستے پر چلنے والا‘ قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ تاریخ کے ظالموں کے نقش قدم پر چلتے ہیں ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں خونریزی اور عدم استحکام پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔
یہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر بار بار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خطے میں جارحیت کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
مزید برآں، اسرائیل لبنان اور شام میں عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ترکی کرد عسکری گروہ پی کے کے کے ساتھ اپنے طویل تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ تازہ سفارتی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔

شیئر: