سال 2026 میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوگا؟
سال 2026 میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوگا؟
جمعرات 20 نومبر 2025 10:20
ماہرین کے مطابق سال 2026 میں موبائل فون سمیت دیگر گیجٹس کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ٹیکنالوجی انڈسٹری سے منسلک ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کے باعث میموری چِپ کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کا براہ راست اثر الیکٹرانکس اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئندہ سال کے دوران صارفین کو موبائل فون، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانکس اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے ہارڈ ویئرز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو چیٹ جی پی ٹی جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کو مزید ڈویلپ کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہارڈ ویئر کی نہ ختم ہونے والی طلب کے باعث میموری چِپ تیار کرنے والی کمپنیوں نے جان بوجھ کر سپلائی کو روک کر رکھا ہوا ہے تاکہ قیمتوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
چین کی موبائل فون کمپنی شاؤمی کے صدر لو ویبنگ کا کہنا ہے کہ میموری چپ کی سپلائی کو پورا کرنے کے لیے اس سال کے مقابلے میں سال 2026 میں بہت زیادہ دباؤ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر ایک شخص کو مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافے کے تجربے سے گزرنا پڑے گا۔‘
سیمی کنڈیکٹر بنانے والی کمپنی ’انجینویٹی‘ کے سربراہ ویلیم کیٹنگ کے مطابق ’کمپیوٹر، سمارٹ فونز اور سرورز وغیرہ بنانے والی تمام کمپنیاں سپلائی میں کمی سے متاثر ہوں گی۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
میموری چپ ’ڈی آر اے ایم‘ اور ڈیٹا سٹور کرنے والا حصہ ’این اے این ڈی‘ کی بہت زیادہ طلب پائی جاتی ہے جو تقریباً ہر گیجٹ میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اے آئی کو ڈیٹا پروسیس کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
سام سنگ کا کہنا ہے کہ میموری چپ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نیا پلانٹ لگانے کا ارادہ ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
یہی وجہ ہے کہ میموری چپ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی چپ تیار کرنے والی کمپنیوں جیسے جنوبی کوریا کی سام سنگ اور ایس کے ہائینکس جبکہ امریکہ کی مائیکرون اور سان ڈسک کے منافع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
سام سنگ کمپنی نے اتوار کو کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے جنوبی کوریا میں سیمی کنڈیکٹر کا ایک نیا پلانٹ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گاڑیوں کی قیمتوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ ولیم کیٹنگ کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا محدود حصہ میموری چپ پر منحصر ہے۔
میموری چپ بنانے والی چین کی سب سے بڑی کمپنی ایس ایم آئی سی کا کہنا ہے کہ صارفین آرڈر دیتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ بے یقینی ہے کہ کیا میموری چپ انڈسٹری موبائل فون، گاڑیاں اور دیگر مصنوعات طلب کے مطابق تیار کر سکے گی۔
ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ ویلیم کیٹنگ کے مطابق سپلائی متاثر ہونے کی بنیادی وجوہات دو ہیں۔ اے آئی انڈسٹری سے جڑی طلب میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میموری چپ تیار کرنے والی کمپنیوں نے حالیہ چند سالوں میں اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مختص بجٹ میں بہت زیادہ کمی کی ہے۔
کیٹنگ کے مطابق ان کمپنیوں کا مقصد یہی ہے کہ اپنی صلاحیت کو محدود رکھیں اور قیمتوں کو زیادہ کریں۔
’ایسا انہوں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ تاکہ کچھ عرصہ قبل جب میموری چپ کی قیمتوں میں اچانک کمی واقع ہوئی تھی، ایسا دوبارہ نہ ہونے دیا جائے، جس سے میموری چپ تیار کرنے والی کمپنیوں کو اربوں کا نقصان ہوا تھا۔‘