نیپال میں ریپر سے سیاست دان بننے والے بالندر (بالن) شاہ کی متعدل فکر کی حامل سیاسی جماعت نے گذشتہ روز جمعے کو ہونے والے اہم پارلیمانی انتخابات میں ابتدائی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی سست روی سے جاری ہے۔ یہ گذشتہ برس کی خون ریز بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بالن شاہ کی جماعت کے حامی اگرچہ کٹھمنڈو کی سڑکوں پر رقص کرتے ہوئے جشن منا رہے ہیں، لیکن اب تک گنے گئے ووٹوں کی تعداد اس قدر کم ہے کہ یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ برتری حقیقی کامیابی میں تبدیل ہو گی بھی یا نہیں۔
جمعے کی دوپہر تک، یعنی پولنگ کا وقت ختم ہونے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ابتدائی رجحانات کے مطابق بالن شاہ کی راشٹریہ سوتنترا پارٹی آگے تھی۔
مزید پڑھیں
اقتدار کی دوڑ میں شاہ کے علاوہ اہم شخصیات میں مارکسسٹ رہنما کے پی شرما اولی بھی شامل ہیں، جو چار مرتبہ وزیرِاعظم رہ چکے ہیں اور ستمبر 2025 میں ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد اقتدار سے ہٹا دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ نیپالی کانگریس پارٹی کے نو منتخب رہنما گگن تھاپا بھی نمایاں امیدواروں میں شامل ہیں۔
شام پانچ بجے تک راشٹریہ سوتنترا پارٹی 165 حلقوں میں سے نصف سے زیادہ پر آگے تھی۔
لیکن اس وقت تک صرف دو حلقوں کے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہوا تھا، جن میں سے ایک میں راشٹریہ سوتنترا پارٹی جبکہ ایک میں نیپالی کانگریس کی کامیابی کی تصدیق ہوئی تھی۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان پرکاش نیوپانے نے بتایا کہ ’ووٹوں کی گنتی پورے ہمالیائی ملک میں برف بوش بلند و بالا پہاڑی علاقوں سے لے کر انڈیا کی سرحد سے ملحق گرم میدانی علاقوں تک ’پرامن طور پر‘ جاری ہے۔‘
یہ فیصلہ اب ووٹروں نے کرنا ہے کہ ستمبر 2025 کی بغاوت کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کی جگہ کون لے گا۔ اس بغاوت میں کم از کم 77 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ پارلیمان سمیت کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
نوجوانوں کی قیادت میں یہ احتجاج، جسے عمومی طور پر جنریشن زی سے منسلک کیا جاتا ہے، ابتدا میں سوشل میڈیا پر مختصر پابندی کے خلاف مظاہروں سے شروع ہوا، لیکن بعد میں بدعنوانی اور خراب معاشی صورتِ حال کے خلاف وسیع تر عوامی غم و غصے نے ان مظاہروں کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ہفتہ وار جریدے نیپالی ٹائمز کے ناشر کنڈا ڈکشت نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ابتدائی رجحانات ہی اگر حتمی نتائج ثابت ہوئے تو یہ ایک ڈرامائی سیاسی تبدیلی ہو گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری توقعات سے بھی بڑی سیاسی تبدیلی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پرانی جماعتوں کی ناقص کارکردگی سے عوام کس قدر بددل ہو چکے ہیں، اور ستمبر کے واقعات پر ان میں کس قدر غصہ پایا جاتا ہے۔‘
’ملک کی تقدیر‘
یہ انتخابات تین کروڑ آبادی والی ہمالیائی جمہوریہ میں سنہ 2006 کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے سب سے زیادہ کانٹے دار انتخابات میں سے ایک شمار کیے جا رہے ہیں۔
خصوصی توجہ اہم انتخابی حلقے جھاپا-5 پر مرکوز ہے، جو مشرقی نیپال کا عام طور پر پرسکون ضلع سمجھا جاتا ہے اور جہاں 35 برس کے بالن شاہ نے براہِ راست 74 سالہ تجربہ کار رہنما کے پی شرما اولی کو چیلنج کیا ہے۔
شاہ، جو عموماً بالن کے نام سے جانے جاتے ہیں اور اکثر سیاہ سوٹ اور دھوپ کے چشمے میں دکھائی دیتے ہیں، خود کو نوجوانوں کی قیادت میں آنے والی سیاسی تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک، جب جھاپا-5 میں تقریباً 10 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی تھی، بالن شاہ کو کے پی شرما اولی سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ووٹ مل چکے تھے۔
جھاپا میں پولنگ سٹیشن کے اردگرد خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ فوجی تعینات تھے۔

38 سالہ بھگوتی ادھیکاری، جو جھاپا میں سکیورٹی حصار کے باہر موجود درجنوں ووٹرز میں شامل تھیں، نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج ملک کی تقدیر کو بہتر سمت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں امن اور سلامتی ہونی چاہیے، نوجوانوں کو مواقع ملنے چاہییں، بدعنوانی ختم ہونی چاہیے، میرا بس یہی مطالبہ ہے۔‘
’اب آرام سے رہیں‘
275 رکنی ایوانِ نمائندگان (پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں) کی 165 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کے لیے 3400 سے زائد امیدوار میدان میں اترے تھے، جبکہ مزید 110 نشستیں پارٹی فہرستوں کے ذریعے دی جائیں گی۔ ووٹنگ کا تناسب 59 فیصد رہا۔
ملک بھر کے مکمل نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
کنڈا ڈکشت نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ’شاہ کی جماعت ایک بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر راشٹریہ سوتنترا پارٹی جادوئی ہدف یعنی 138 نشستیں حاصل کر لیتی ہے تو بالن شاہ وزیرِاعظم بن جائیں گے اور امید ہے کہ وہ ماہرین پر مشتمل کابینہ تشکیل دیں گے۔‘
عبوری وزیرِاعظم سشیلا کارکی نے ووٹنگ کے پرامن انعقاد کو سراہا اور کہا کہ ان انتخابات کا انعقاد ہمارے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے انتہائی اہم تھا۔

73 سالہ سشیلا کارکی ملک کی سابق چیف جسٹس رہ چکی ہیں اور وہ اپنی ریٹائر زندگی چھوڑ کر عارضی طور پر ملک کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ ہوئی تھیں، جنہیں اب انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے چیلنج کا سامنا کرنا ہے۔
ان انتخابات میں نوجوان امیدواروں کی ایک بڑی تعداد بھی سامنے آئی ہے جو نیپال کی خراب معاشی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے وعدے کر رہے ہیں۔ وہ ان تجربہ کار سیاست دانوں کو چیلنج کر رہے ہیں جو کئی دہائیوں سے سیاست پر حاوی رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تجربہ ہی استحکام اور سلامتی کی ضمانت ہے۔












