النصر فٹبال کلب کے حالیہ ہوم میچ کے دوران سعودی خواتین کے گروپ کو سعودی ڈیزائنر نورا الشیخ کے ڈیزائن کیے ہوئے باوقار فین ویئر پہنے ہوئے دیکھا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق اس کے ذریعے فٹبال فیشن کو ایک شائستہ انداز میں پیش گیا جو باوقار لباس کو کلب کے ساتھ اہمیت سے جوڑتا ہے، جدید محسوس ہوتا ہے اور ثقافتی طور پر جڑا ہوا لگتا ہے۔
نورا الشیخ نے عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ لباس ایک میچ کو دیکھ کر بنایا گیا۔
مزید پڑھیں
-
سعودی ڈیزائنر کے ملبوسات میں ’روایتی اور جدید فیشن‘ کی جھلکNode ID: 901076
نورا الشیخ کہتی ہیں کہ ’میں النصر کا ایک میچ دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کئی خواتین سٹینڈز میں موجود ہیں جو جوش و خروش اور توجہ سے میچ دیکھ رہی ہیں اور ماحول کے ساتھ ڈھل چکی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ مردوں نے فین ویئر جرسیاں پہنی ہوئی ہیں جبکہ خواتین کے پاس وہ نہیں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا نہیں تھا کہ وہاں خواتین نہیں تھیں لیکن وہ اپنی موجودگی کا اظہار کسی طریقے سے نہیں کر پا رہی تھیں۔ بہت سی خواتین موجودہ چیزوں کو ہی تہوں کی صورت میں پہن کر یا اُن میں ردوبدل کر کے گزارا کر رہی تھیں لیکن کوئی بھی چیز اُن کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی تھی۔‘
مردوں اور خواتین کے درمیان یہی دوری اس نئے تجربے کا آغاز بنی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت سی خواتین کو جانتی ہوں جو کلب کی دیوانی ہیں۔ جب میں سٹینڈ میں تھی اور یہ کمی مجھے محسوس ہوئی تو میں نے سوچا کہ اس بارے میں کچھ کیا جائے۔ یہ صرف ایک آئیڈیا نہیں تھا بلکہ یہ ایک ذمہ داری محسوس ہوئی کہ وہ کچھ ایسا تخلیق کریں جو ان خواتین اور ٹیم کی حمایت کی ترجمانی کر سکیں۔‘

نورا الشیخ نے اس لباس کو ابھی تک کمرشل طور پر فروخت کے لیے پیش نہیں کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس آئیڈیا کے ساتھ ذاتی طور پر منسلک ہونا محسوس کرتی ہوں۔ میری نیت ایسی بامقصد چیز تخلیق کرنا تھی جو ان خواتین کی موجودگی اور اُن کے فینڈم کی قدر کرے۔‘
یہ ڈیزائن کلب کی شناخت اور سعودی خواتین کے ڈیزائن کی ڈائیورسٹی کے درمیان توازن کو محتاط انداز میں ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
نورا الشیخ کہتی ہیں کہ ’اس کا خیال مجھے صرف خواتین ہی سے آیا۔ سعودی خواتین کوئی ایک یکساں گروپ نہیں ہے۔ یہاں ڈریسنگ کے مختلف طریقے ہیں، مختلف ترجیحات ہیں اور شناخت کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی چیز تخلیق کرنے کی ضرورت تھی جو انہیں نیچرل محسوس ہو اور اس سے ٹیم کی شناخت بھی ظاہر ہو۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے النصر کی جرسی کے عناصر اور رنگوں کو لے کر ایک ایسی شکل دی جو کھیل کی روح کو برقرار رکھتی ہے لیکن نئی اور ترجیحی شکل میں۔‘
نورا الشیخ کے مطابق یہ جرسی فٹبال کے ورثے اور سعودی فیشن کا امتزاج ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ دونوں چیزوں کا امتزاج ہے۔ میں روایتی فٹبال جرسیوں کی نقل نہں کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے انہیں ایسے ترتیب دیا ہے کہ وہ خواتین کو لباس کا انتخاب کرنے میں نیچرل محسوس ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم کلب کی شناخت بہت اہم تھی۔ رنگ، اپنائیت کا احساس، سٹیڈیم کی انرجی۔ جرسی بنانے کا آغاز جدید سعودی فیشن اور روزمرہ کے استعمال کے پہناوے پر مبنی تھا۔ ہمیں ایسی چیز بنانی تھی جو جانی پہچانی اور مستند محسوس ہو۔‘
نورا الشیخ نے النصر فٹبال کلب کے پارٹنر ایڈیڈاز کے ساتھ شراکت قائم کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کمی کو محسوس کرنے کے بعد دوسرا قدم یہ تھا کہ الںصر کے ساتھ کام کرنے والے سپورٹس ویئر پارٹنر کو ڈھونڈا جائے اور اس سے وژن کو عملی شکل دی جائے۔ اس وجہ سے میں ایڈیڈاز کے پاس گئی۔‘
ان کے مطابق ’انہوں نے اس آئیڈیا کو بھرپور سپورٹ کیا۔ وہ اس بات کو سمجھ گئے کہ یہ خیال پروڈکٹ بنانے کا نہیں ہے بلکہ سعودی خواتین فینز کو سپورٹ کرنا اور اُن کی موجودگی کو ظاہر کرنا ہے۔ ایسی شراکت داری سے یہ ذاتی خیال عملی شکل میں ڈھل گیا۔‘
اس ڈریس نے 29 اپریل کو النصر اور الآہلی سعودی کے درمیان ہائی پروفائل میچ میں ڈیبیو کیا۔
نورا الشیخ نے کہا کہ ’میرے لیے یہ بہت اہم بات تھی کہ خواتین کے پاس بھی اب کچھ تھا جس سے وہ اپنے فینڈم کا اظہار کر سکتی تھیں۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اُن کی وہاں ترجمانی ہو رہی تھی۔ یہ وہ خواتین ہیں جو ہمیشہ سے ماحول، انرجی اور کھیل کے کلچر کا حصہ رہی ہیں۔‘












