Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو تحفے میں دیے گئے طیارے کی آزمائش مکمل، ’رونمائی کے لیے تیار‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس طیارے کو قبول کرنے سے متعلق کسی بھی اخلاقی مسئلے کی تردید کر چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ قطر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دیے گئے بوئنگ 747 طیارے نے اپنی آزمائشی پروازیں (فلائٹ ٹیسٹنگ) باضابطہ طور پر مکمل کر لی ہیں اور توقع ہے کہ یہ رواں موسمِ گرما میں اپنی پہلی پرواز بھرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی فضائیہ کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طیارے میں ترامیم اور فلائٹ ٹیسٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اب اس پر رنگ و روغن کا عمل جاری ہے۔‘
بیان کے مطابق ’یہ طیارہ اپنے نئے سرخ، سفید اور نیلے رنگ کے ڈیزائن کے ساتھ رواں برس موسمِ گرما میں منظرعام پر لائے جانے کے لیے تیار ہے۔‘
خلیجی ریاست کی جانب سے دیے گئے اس طیارے کی مالیت کروڑوں ڈالرز بتائی جاتی ہے تاہم اس تحفے نے بڑے آئینی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے۔
ناقدین کی جانب سے سکیورٹی کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ آیا کسی غیر ملکی طاقت کی جانب سے عطیہ کردہ طیارے کو انتہائی حساس ’ایئر فورس ون‘ کے طور پر استعمال کرنا مناسب ہے۔
امریکی آئین کی ایک شق جسے ’ایمولومنٹس کلاز‘ کہا جاتا ہے، حکومتی عہدیداروں کو کسی بھی بادشاہ، شہزادے یا غیر ملکی ریاست سے تحائف قبول کرنے سے روکتی ہے۔
پینٹاگون کا موقف
قطر نے یہ طیارہ مئی 2025 میں پیش کیا تھا جسے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اسی ماہ ’تمام وفاقی قواعد و ضوابط کے مطابق‘ قبول کر لیا تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے اس وقت کہا تھا کہ محکمہ دفاع اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صدر کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے اس طیارے کے لیے تمام ضروری سکیورٹی اقدامات اور مشن کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس طیارے کو قبول کرنے سے متعلق کسی بھی اخلاقی مسئلے کی تردید کر چکے ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کے لیے اس طیارے کو قبول نہ کرنا ’بیوقوفی‘ ہو گی۔

شیئر: