ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں ہوں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز سے خوش نہیں ہیں۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ایک طویل جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت میں اس بات سے مطمئن نہیں ہوں کہ وہ کیا پیش کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی تازہ دستاویز میں ایسی کون سی بات ہے جسے وہ قبول نہیں کر سکتے، اور ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ تہران کے حکام شاید کبھی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مذاکراتی حل تک نہ پہنچ سکیں۔
وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’انہوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ کبھی اس مقام تک پہنچیں گے۔‘
انہوں نے ایران کی قیادت میں ’شدید اختلافات” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’قیادت بہت منتشر ہے۔ اس میں دو سے تین گروہ ہیں، شاید چار، اور یہ ایک بہت غیر مربوط قیادت ہے۔ اور اس کے باوجود، سب معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب الجھے ہوئے ہیں۔‘