ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں، پاکستان کی بہت عزت کرتا ہوں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ایک طویل جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کی فوج ہی نہیں رہی۔ لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔‘
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی تازہ دستاویز میں ایسی کون سی بات ہے جسے وہ قبول نہیں کر سکتے، اور ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ تہران کے حکام شاید کبھی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مذاکراتی حل تک نہ پہنچ سکیں۔
قبل ازیں ایرانی کی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجویز پیش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعرات کی شام اپنی تازہ ترین مذاکراتی تجویز کا متن امریکہ کے ساتھ بات چیت میں ثالث کے طور پر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے پاکستان کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد بھجوا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کی، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ لیکن ٹرپ بہت لمبا ہے اس وقت ہم ٹیلی فون پر بات کر رہے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’انہوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ کبھی اس مقام تک پہنچیں گے۔‘
انہوں نے ایران کی قیادت میں ’شدید اختلافات” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’قیادت بہت منتشر ہے۔ اس میں دو سے تین گروہ ہیں، شاید چار، اور یہ ایک بہت غیر مربوط قیادت ہے۔ اور اس کے باوجود، سب معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب الجھے ہوئے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کے پاس دو بنیادی راستے ہیں: یا تو بڑی فوجی کارروائی کی جائے یا پھر کسی معاہدے تک پہنچا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’آپشنز موجود ہیں۔ کیا ہم جا کر ان پر بھرپور حملہ کریں اور انہیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں؟ یا ہم کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش کریں؟ یہی آپشنز ہیں۔‘ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہیں گذشتہ شام امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوجی آپشنز پر تازہ بریفنگ دی گئی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ دوبارہ بمباری کی مہم شروع کرنے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ’انسانی بنیادوں پر، میں ایسا نہ کرنے کو ترجیح دوں گا۔ لیکن یہی آپشن ہے، کیا ہم وہاں بھرپور طاقت کے ساتھ جائیں اور انہیں ختم کر دیں یا ہم کوئی اور راستہ اختیار کریں؟‘
