صحرا نشینوں کے روایتی پکوانوں کا اہم جزو، کھٹ مٹھے پتوں والا جنگلی پودا ’حمیض‘
حمیض کا مخصوص ذائقہ لیموں کی طرح کی کھٹاس رکھتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
کھٹ مٹھے پتوں پر مشتمل ایک جنگلی پودا جسے عرب ’حمیض‘ کے نام سے پکارتے ہیں، جزیرہ نمائے عرب کے پکوانوں کی وراثت میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق صدیوں تک یہ پودا، صحرا نشینوں اور ریگزاروں میں بسنے والی کمیونٹیوں کے لیے بنیادی غذا کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
یہ پودا بارش کے موسم میں میدانوں، وادیوں اور ریتیلے ماحول میں خوب پھلتا پھولتا ہے۔
اِس پودے کا سائنسی نام ’رومیکس ویسیکیریئس‘ ہے اور اِس کا ایک مخصوص ذائقہ ہے جو لیموں کی طرح کی کھٹاس رکھتا ہے۔
اس کی دو اقسام ہیں: ایک قسم تو پتھریلے میدانی علاقوں اور وادیوں سے مخصوص ہے جبکہ دوسری ریت کے ماحول میں جوبن پر ہوتی ہے۔

یہ پودا عام طور پر 30 سینٹی میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ اِس کے پتے پیلاہٹ مائل سبز ہوتے ہیں جبکہ اِس کا پھل گلابی یا سفید اور نیم شفاف ہوتا ہے۔
جزیرہ نمائے عرب کی روایتی طباخی میں یہ پودا نسل در نسل بنیادی غذا کے طور پر کھانے میں استعمال ہوتا آیا ہے۔
اِسے تازہ تازہ کھاتے ہیں اور سلاد یا سُوپ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ حتٰی کہ اس سے چٹنیاں بھی بنائی جاتی ہیں اور کبھی کبھی تو جڑی بوٹیوں سے بننے والے مشروبات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

حمیض کا پودا عرب دنیا میں آج بھی موجود ہے اور خطے کے پکوانوں کی تاریخ کا ایک گواہ بھی ہے۔
جنگلی پودوں اور روایتی غذاؤں کے شوقین افراد کے لیے حمیض آج بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔
