Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ماضی کی یادیں‘: دہائیوں پرانے مکانات میں سعودی شہریوں کا سحر و افطار

سعودی عرب کے الباحہ ریجن میں بیشتر خاندان رمضان المبارک میں اپنے پرانے اور روایتی مکانات میں افطار و سحر کا بندوبست کرکے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق الباحہ ریجن کی کمشنری العقیق میں آج بھی پتھر اور چکنی مٹی سے بنے مکان موجود ہیں جہاں اہل علاقہ کے اجداد سادگی سے زندگی گزارا کرتے تھے۔
ریجن میں پرانے طرز کے مکانات انتہائی سادہ ہوتے تھے۔ ان مکانات میں وسیع صحن اور برآمدہ ہوتا، جہاں ماہ رمضان میں افطار و سحر کے دسترخوان سجائے جاتے تھے۔
علاقے کے بیشتر افراد نے اپنے مکانات اسی انداز میں از سرِ نو تعمیر کیے ہیں اور اجداد کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ماہ رمضان کے حسین لمحات اُن یادوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔
علاقے کے ایک شہری محمد عایض الغامدی نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے اپنا مکان اسی انداز میں تعمیر کیا ہے جیسے آج سے چار دہائی قبل بنایا گیا تھا۔

محمد عایض الغامدی کا کہنا تھا کہ ’وہ دور بہت سادہ ہوتا تھا، علاقے میں بجلی نہیں تھی اور لالٹین کی روشنی میں سحری اور افطاری کی تیاری کیا کرتے تھے۔‘
ان کے مطابق ’خوان بھی سادگی سے بھرپور ہوتے تھے۔ افطار میں محض کھجور، دیسی گھی، دہی اور سعودی قہوہ پیش کیا جاتا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مغرب کی اذان سے قبل سب لوگ خوان کے گرد بیٹھ کر بلند آواز میں دعائیں کیا کرتے تھے۔ وہ مناظر آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں اور شاید کبھی فراموش نہ ہوں۔ اسی لیے ہم نے اپنے آبائی مکان کو اسی انداز میں تعمیر کیا تاکہ ان یادوں کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے۔‘

 

شیئر: