Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماہ رمضان میں مسجد اقصی کی مسلسل بندش، سعودی عرب، اسلامی اور عرب وزرائے خارجہ کی مذمت

مسلسل 12 ویں دن بھی نمازیوں کو مسجد اقصی میں داخلے سے روک دیا ہے( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت متعدد عرب و اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجد الاقصی کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے بدھ کو مسلسل 12 ویں دن بھی نمازیوں کو مسجد اقصی میں داخلے سے روک دیا ہے۔ رمضان البمارک کے اختتام میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مشترکہ بیان میں سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ رمضان المبارک کے تقدس کا بھی خیال نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مسجد الاقصی جانے سے روکا جارہا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بیت المقدس اور قدیم شہر کی عبادت گاہوں تک رسائی تک سکیورٹی   پابندیاں امتیازی ہیں، یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی بین الاقوامی قوانین، موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت اورعبادتگاہوں تک رسائی کی مکمل آزادی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ان غیرقانونی و بلاجواز اقدامات اور مسجد الاقصی میں اسرائیل کے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس، اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات پر اسرائیل کی  کوئی خود مختاری نہیں ہے۔
 مسجد الاقصی اور ارد گرد کا پورا رقبہ جو 144 دونم ہے صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، بیت المقدس اورمسجد الاقصی کے امور اور انتظامات کی ذمہ دار اردن کی وزارت اوقاف ہے، جس کے پاس کمپاونڈ کی نگرانی اور رسائی کو منظم کرنے کا قانونی اختیار ہے۔
بیان میں وزار نے زور دیا کہ اسرائیل فوری طور پر بندش ختم کرے اور نمازیوں کے لیے مسجد اقصی تک رسائی میں رکاوٹ کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔
 پرانے شہر بیت المقدس تک رسائی پر پابندیاں اٹھائی جائیں تاکہ مسلمانوں کو مسجد تک جانے میں دشواری اور رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری پراسرائیل کی جانب سے مسلمانوں اورعیسائیوں کے مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

 

شیئر: