خلیج جنگ کے پھیلتے اثرات، پنجاب میں روٹی کی قیمت بڑھنے والی ہے؟
خلیج جنگ کے پھیلتے اثرات، پنجاب میں روٹی کی قیمت بڑھنے والی ہے؟
ہفتہ 2 مئی 2026 5:19
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
مریم نواز نے وزارت اعلیٰ سنبھالتے ہی روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کی تھی (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان میں خلیج کی جنگ کے اثرات مختلف طریقوں سے روز مرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سب سے زیادہ نظر آںے والے اثرات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں نمودار ہوئے جس سے نمٹنے کے لیے شام آٹھ بجے سے لاک ڈاون کی شکل میں ’حکومتی مینیجمنٹ‘ نظر آتی ہے۔
دو مہینوں سے جاری اس جنگی صورت کے اثرات اشیائے خورونوش پر مگر اس طرح سے ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔
کھانے پینے کی اشیا خصوصا سبزیوں ، دالوں اور گوشت کے ریٹس میں نمایاں اضافہ ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ روٹی اور دودھ کے حوالے سے ایسوسی ایشنز حکومت پر دباو بڑھا رہی ہیں کہ اب قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی نان بائیوں کی تنظیم نے روٹی کی قیمت بڑھانے کے لیے حکومت سے مدد مانگی تو انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
محمد رزاق جو اس تنظیم کے رکن ہیں انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت ایل پی جی گیس بلیک میں مل رہی ہے۔ تندور چلانے مشکل ہو گئے ہیں۔ ہم نے متعدد دفعہ حکومت کو کہا کہ ہم پلے سے روٹ عوام کو نہیں کھلا سکتے۔‘
ان کے مطابق ’بدھ کو جو ہماری میٹنگ ہوئی ہے اس میں حکومت نے کہا ہے کہ روٹی کی قیمت نہیں بڑھا سکتے لیکن خمیری اور نان کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں تو یہ ایک طرح سے ہمیں ریلیف ملا ہے۔‘
ایران پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران نے سر اٹھایا (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے وزیر اعلی مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی صوبے میں روٹی کی قیمت کو 14 روپے مقرر کیا تھا اور کسی بھی طرح سے حکومت اس قیمت کو بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پنجاب کے پرائس کنٹرول محکمے کی سربراہ سلمہ بٹ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں اب تک نان بائی ایسوسی ایشن سے بیس میٹنگز کر چکی ہوں اور ہم نے انہیں واضع کیا ہے کہ روٹی کے معاملے پر وزیر اعلی کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہیں تو اس کا کوئی درمیانہ راستہ نکالتے ہیں تو پھر انہیں نان کلچے اور دیگر مصنوعات میں اضافے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ پھر بھی چوائس میں آتا ہے جبکہ روٹی بنیادی ضرورت ہے۔‘
سبزیوں اور دالوں سے متعلق سلمی بٹ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کی طرف بارڈر بند ہونے کی وجہ سے سبزیوں دالوں اور چکن کے ریٹس میں اضافہ ابھی اس لیے نہیں ہوا کیونکہ یہ سب ہمارے پاس سر پلس میں ہے دالوں کی امپورٹ ابھی متاثر ہوئی ہے لیکن ابھی ہمارے پاس ذخائر اور لوکل پروڈکشن اتنی ہے کہ کچھ اور وقت ریٹس بڑھائے بغیر نکل جائے گا۔ تاہم منڈی سے دکان تک لانے میں جو تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں ان کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت سے چار سے پانچ روپے اضافہ ہوا ہے یعنی اس وقت جتنی تیل کی قیمت بڑھی ہے اس کو فی کلو پر تقسیم کریں تو وہ چار سے پانچ روپے اضافہ ہی ہے۔ اس لیے لوگوں کے روز مرہ کے کھانے پینے کے معاملات متاثر نہیں ہیں۔‘
پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران کئی بار پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا (فوٹو: اے ایف پی)
صوبائی دارالحکومت میں جمعرات کے روز مارکیٹوں میں سبزیوں جن میں ٹماٹر ، پیاز اور دیگر سبزیاں شامل ہیں ان کے ریٹ نارمل دیکھے گئے۔
البتہ دودھ کے ریٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہےکہ اگلے دو مہینے تک صورت حال قابو میں رہے گی کیونکہ ابھی لوکل پروڈکشن مارکیٹ میں آ گئی ہے، صورت حال اس وقت مختلف ہو گی جب لوکل پروڈکشن ختم ہو گی اور امپورٹ پر انحصار بڑھے گا۔