اسرائیل کا ماہِ رمضان میں 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی اجازت دینے کا فیصلہ
رمضان کے دوران روایتی طور پر لاکھوں فلسطینی مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماہِ رمضان کے دوران، جو بدھ کے روز شروع ہوا، مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ میں ہفتہ وار نماز کی ادائیگی کے لیے 10 ہزار فلسطینی نمازیوں کو شرکت کی اجازت دے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حکام نے مسجد کے احاطے میں داخلے پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جن کے تحت صرف 55 برس یا اس سے زائد عمر کے مرد، 50 برس یا اس سے زائد عمر کی خواتین، اور 12 برس تک کے بچوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے فلسطینی شہری امور کے ذمہ دار ادارے COGAT نے ایک بیان میں کہا کہ ’رمضان کے پورے مہینے کے دوران جمعے کی نماز کے لیے 10 ہزار فلسطینی نمازیوں کو ٹیمپل ماؤنٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ پیشگی خصوصی یومیہ اجازت نامہ حاصل کریں۔‘
بیان کے مطابق ’مردوں کو 55 برس کی عمر سے، خواتین کو 50 برس کی عمر سے، جبکہ 12 برس تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ہمراہ داخلے کی اجازت ہو گی۔‘
رمضان کے دوران روایتی طور پر لاکھوں فلسطینی مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔ یہ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جسے اسرائیل نے سنہ 1967 میں قبضے میں لیا تھا اور بعد ازاں اسے ضم کر لیا، تاہم اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
فلسطینی گورنریٹ القدس نے اس ہفتے کہا کہ اسرائیلی حکام نے اردن کے زیرانتظام اسلامی وقف، جو اس مقام کا انتظام چلاتا ہے، کو رمضان سے قبل معمول کی تیاریوں سے روک دیا، جن میں سایہ دار ڈھانچے نصب کرنا اور عارضی طبی مراکز قائم کرنا شامل تھا۔
مسجد اقصیٰ کے ایک سینیئر امام شیخ محمد العباسی نے کہا کہ انہیں بھی مسجد کے احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے ایک ہفتے سے مسجد میں داخلے سے روک دیا گیا ہے، اور اس حکم میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔‘
طویل عرصے سے قائم انتظامات کے تحت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے کی زیارت کی اجازت ہے، جسے وہ پہلے اور دوسرے یہودی ہیکل کا مقام قرار دیتے ہیں، تاہم انہیں وہاں عبادت کی اجازت نہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس میں بتدریج تبدیلی کی جا رہی ہے۔
