انڈیا سے تعلق رکھنے والے کیپٹن راہول دھر عملے سمیت تقریباً آٹھ ہفتوں سے خلیج عرب میں اپنے ٹینکر پر پھنسے ہوئے ہیں، کبھی ان کے اوپر ڈرون اڑتے ہیں اور کبھی میزائلز کی آوازیں سنتے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کی اس مشکل کی وجہ ایک وجہ تو آبنائے ہرمز کی بندش ہے اور دوسری وہ جنگ، جس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔
کیپٹن راہول دھر کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں ہی عملے کے ارکان کا حوصلہ برقرار ہے مگر تناؤ ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نے انہیں کسی حد تک امید دلائی ہے مگر ابھی تک جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح امکان دکھائی نہیں دیتا۔
’روز ہی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ گپ شپ کریں اور چیزوں کو معمول پر رکھیں جس سے سب سے جذبے کو توانا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔‘
راہول دھر نے اے پی کو بتایا کہ ’ہم نے کئی بار ڈرونز کو اڑتے اور میزائلز کو نشانہ بنائے جانے کے مناظر دیکھے جن میں سے کچھ جہاز کے قریب اور کچھ دور افق میں تھے۔’
ان کے مطابق ’وہ مشکل لمحات تھے اور عملے کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم میں سے کسی کو بھی جنگی صورت حال پیدا ہونے کی امید نہیں تھی تاہم انٹرنیٹ کی بدولت خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے میں مدد ملی۔ آنے والی کالز اور پیغامات واقعی ہماری طاقت بڑھاتے ہیں۔‘
تقریباً 20 ہزار ملاح پھنسے ہوئے ہیں
اس وقت تیل اور گیس کے ٹینکرز کے علاوہ مال بردار جہاز بھی آبنائے ہرمز کو عبور کرنے سے قاصر ہیں اور ان سینکڑوں جہازوں پر 20 ہزار کے قریب افراد سوار ہیں۔
یہ وہی گزر گاہ ہے جس سے دنیا کی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
سمندری سفر پر نظر رکھنے والے ادارے لائڈ لسٹ کے مطابق 13 سے 19 اپریل کے دوران تقریباً 80 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ جنگ سے قبل یہ تعداد 130 یا اس سے بھی زیادہ تھی۔
اقوام متحدہ کے کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک درجنوں بحری جہاز حملوں کی زد میں آ چکے ہیں اور اب تک کم سے کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی ہونے کے بعد اس میں توسیع کی گئی ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی برقرار رکھی ہوئی ہے جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے دو جہازوں پر فائرنگ کی اور ان کو قبضے میں لیا۔
کیپٹن ارون کمار راجندرن کا کہنا تھا کہ ’بحری جہاز عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر پھر بھی علاقائی و جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔‘
’آنکھوں کے سامنے دھماکے ہوتے دیکھے‘
فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا سے وابستہ منوج کمار کا کہنا ہے کہ ہزاروں انڈین ملاح جہازوں پر سوار ہیں اور خوف و تنہائی میں وقت گزار رہے ہیں کیونکہ ان میں سے کچھ جہاز بندر عباس اور خرمشہر جیسی بندرگاہوں کے قریب ہیں اور عملے نے اپنے جہاز کے ڈیکس سے آنکھوں کے سامنے دھماکے ہوتے دیکھے۔

انڈیا دنیا کے چند ان بڑے ممالک میں سے ایک ہے جہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سمندر سے جڑے کاموں سے وابستہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کے 20 ہزار سے زائد افراد غیرملکی جہازوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں سے کافی تعداد میں انخلا کی مربوط کوششوں کی وجہ سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
پچھلے ہفتے انڈیا کی وزارت جہاز رانی نے کہا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم دو ہزار 650 ملاحوں کو نکالا جا چکا ہے۔












