’روٹ ٹو مکہ‘ انیشیٹیو سے سفرِ حج میں غیرمعمولی آسانیاں پیدا ہوئیں: بنگلہ دیشی عازمین
بنگلہ دیش سے آنے والے عازمینِ حج نے’روٹ ٹو مکہ‘ انیشیٹیو کی تعریف کرتے ہوئے ہے کہا ہے کہ اِس اقدام سے سفرِ حج میں غیرمعمولی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں، عازمین کی بیت اللہ جانے کی دلی خواہش کی تکمیل ہو رہی ہے۔
’روٹ ٹُو مکہ‘ انیشیٹیو، سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ’پِلگِرم ایکسپیریئنس پروگرام‘ کے تحت وزارتِ داخلہ کی کوششوں کا کلیدی حصہ ہے۔
یہ انیشیٹیو آٹھ سال قبل شروع کیا گیا تھا جو کامیابی سے جاری ہے جبکہ بنگلہ دیش میں اِس کا آغاز چھ سال پہلے ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ایئرپورٹ سے ہوا تھا۔
رواں برس اِس انیشیٹیو کے تحت دس ممالک میں داخلے کے 17 بین الاقوامی پوائنٹس پر خدمات فراہم کی جائیں گی۔ وہ ممالک جو ’روٹ ٹُو مکہ‘ انیشیٹیو سے مستفید ہونے جا رہے ہیں ان میں سینگال اور برونائی دارالسلام بھی شامل ہیں۔
پروگرام کے تحت عازمینِ حج کو سفری سہولتیں پہنچانے کے لیے الیکٹرونک ویزا جاری کیا جاتا ہے، صحت کی شرائط کی پڑتال آن لائن ہو جاتی ہے جبکہ پاسپورٹ اور بائیومیٹرک کی کارروائی روانگی کے مقام پر ہی مکمل کر لی جاتی ہے۔

خصوصی ٹیگنگ کا بندوبست بھی اسی ’روٹ ٹُو مکہ‘ انیشیٹیو کے تحت کیا جاتا ہے جبکہ عازمینِ حج کے سامان کی ترسیل، مکہ اور مدینہ میں اُن کے مقامِ رہائش پر براہِ راست کر دی جاتی ہے۔
بنگلہ دیشی عازمینِ حج نے سعودی ٹیم کی کارکردگی اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیوائسز کے استعمال کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ ’اِس کی مدد سے وقت اور کوشش دونوں کی بچت ہوتی ہے۔‘

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اِس انیشیٹیو سے عازمین، سعودی ایئرپورٹس سے براہِ راست اپنی قیام گاہوں کو منتقل ہو جاتے ہیں اور اُنھیں اپنے سامان کے لیے عام حالات میں ضروری طریقوں کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔‘
’روٹ ٹُو مکہ‘ کا انیشیٹیو اور اِس کا منظم طریقہ ظاہر کرتا ہے کہ مملکت، عازمینِ حج کے سفر کو آرام دہ اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
