امریکہ کا ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرانے، چھ کشتیاں تباہ کر نے کا دعویٰ
ایڈمرل کوپر نے کہا کہ ’ہم نے نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ اپنے عزم کے مطابق تمام تجارتی جہازوں کا بھی دفاع کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا اور ایران کی چھ چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب امریکی افواج آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی اپاچی اور سی ہاک ہیلی کاپٹروں نے ’تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی ایران کی چھ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے امریکی فوج اور تجارتی جہازوں پر داغے گئے تمام میزائلوں اور ڈرونز کا مؤثر جواب دیا۔
ان کے مطابق کچھ کروز میزائل امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے، تاہم زیادہ تر میزائل اور متعدد ڈرونز تجارتی جہازوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔
ایڈمرل کوپر نے کہا کہ ’ہم نے نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ اپنے عزم کے مطابق تمام تجارتی جہازوں کا بھی دفاع کیا۔‘
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ نشانہ بننے والی ایرانی کشتیوں کی تعداد سات تھی اور دعویٰ کیا کہ ’اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا‘، سوائے ایک جنوبی کوریائی جہاز کے، جس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کے حوالے سے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کا ایرانی جنگی کشتیوں کو ڈبونے کا دعویٰ غلط ہے۔‘
