Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ’دشمن‘ خلیجی ممالک پر حملوں کے ذمہ دار ہیں: ایرانی سفیر

فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران نے خلیج کی جانب ہزاروں میزائل اور ڈرون لانچ کیے۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے سفیر برائے سعودی عرب نے اپنے ملک پر سے الزامات کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پڑوسی (خلیجی) ممالک میں غیرقانونی حملے کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر علی رضا عنایتی نے ایران کی فوجی کمانڈ کے حوالے سے ایک نوٹس شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ ’دشمن‘ ڈرونز استعمال کر رہا ہے جو ’شاہد (ایرانی ساختہ ڈرون) کے روپ میں، لوکاس ڈرون کے نام سے پیش کیے جا رہے ہیں۔‘
اس پیغام میں ایران پر خلیجی ریاستوں پر حملوں کا الزام مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ تہران صرف امریکہ اور اسرائیل کے خطے میں موجود مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اپنی سرزمین پر حملوں کے جواب میں کارروائی کی جا سکے۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’جمہوریہ اسلامی ایران صرف امریکہ اور صیہونی حکومت کے اہداف، مراکز اور مفادات پر حملہ کرتا ہے اور کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی صورت میں ایک سرکاری بیان کے ذریعے اپنی ذمہ داری قبول کرے گا۔‘
علاقائی حکام کے مطابق فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران نے خلیج کی جانب ہزاروں میزائل اور ڈرون لانچ کیے، جن میں زیادہ تر امریکی فوجی اہداف پر مرکوز تھے، لیکن ان سے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ایرانی سفیر کے اس پیغام کو سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے سوال کیا کہ اگر ایران کے خیال میں دیگر فریق ذمہ دار ہیں تو اپنی پوزیشن پہلے کیوں واضح نہیں کی گئی۔
ایک صارف نے کہا کہ سفیر کے بیانات ایران کی فوجی قیادت کے بیان کے منافی ہیں۔
دوسرے نے کہا کہ حتیٰ کہ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے بھی خلیجی ممالک کے لیے خطرہ ہیں، اور ایسے میزائل یا ڈرون قریبی شہروں اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک صارف نے ایرانی عہدیداروں کے متضاد پیغامات پر تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ بحرین اور کویت میں ہلاک ہونے والی خاتون اور بچہ کیا واقعی امریکی ہدف تھے۔
بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں ایران کے خلیجی ممالک اور اردن پر حملوں کی مذمت کی گئی اور تہران سے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جسے خلیج تعاون کونسل نے پیش کیا اور 135 دیگر رکن ممالک نے بھی حمایت کی، جو بین الاقوامی سطح پر وسیع حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔

 

شیئر: