چینی وزیرِ خارجہ کی بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات
بیجنگ نے ایران کی خودمختاری پر حملوں کی مخالفت کی تھی (فائل فوٹو: چینی وزارت خارجہ)
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بدھ کو بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کا آغاز کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراقچی کا ایک روزہ دورہ اُس وقت ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس کے لیے بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں امریکہ اور ایران نے خلیج میں نئی جھڑپیں شروع کیں، جب وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے بحری ناکہ بندیوں کے ذریعے آمنے سامنے آئے، جس سے پہلے ہی کمزور جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ امریکی بحریہ جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد دے گی۔ لیکن یہ کارروائی اُس وقت روک دی گئی جب ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ جامع معاہدے کی طرف ’بہت بڑی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔ تاہم، تہران کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ وقتی طور پر آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کی کوشش روک رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور معاہدے کے لیے وقت مل سکے۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بدستور قائم رہے گی۔
منگل کی شام ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’یہ اقدام پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر، ایران کے خلاف فوجی کامیابیوں اور مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے باعث کیا گیا ہے۔ ایران کے نمائندوں کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ پیر کو ہونے والے حملے، اُس وقت ہوئے جب تہران ٹرمپ کی مذاکرات کی درخواست پر غور کر رہا تھا، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
بیجنگ نے اگرچہ تنازع پر عمومی طور پر غیر جانبدارانہ مؤقف برقرار رکھا ہے، لیکن ایران کی خودمختاری پر حملوں کی مخالفت کی ہے اور ثالثی کی کوششوں کو بھی سہولت فراہم کی ہے۔
