Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیاسی ماحول میں ایوارڈ سیزن کا اختتام، آسکرز میں ’آزاد فلسطین‘ اور ’جنگ نہیں‘ کے نعرے

اتوار کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں اکیڈمی ایوارڈز میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی ایک بار پھر نمایاں رہی جہاں فنکاروں نے ریڈ کارپٹ تقریب کو غزہ کی صورتحال کے درمیان فلسطینی آزادی اور جنگ بندی کے مطالبے کے لیے استعمال کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معروف ہالی وڈ اداکار خاویر باردم نے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرنے سے پہلے سٹیج پر کہا، جنگ نہیں، فلسطین  کو آزاد کرو‘۔
انہوں نے اپنے لباس پر  پیچ بھی لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا’جنگ نہیں‘، یہی نعرہ انہوں نے دو دہائی قبل عراق جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔
ہالی وڈ کے ایوارڈ سیزن کے اختتام میں آسکرز پر سیاسی منتظمین کا کہنا تھا کہ اس بار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اداکاروں نے زیادہ واضح سیاسی موقف اختیار کیا۔

ہالی وڈ اداکار خاویر باردم پہلے بھی ایوارڈ شورز پر اپنے لباس، پیچز اور نعروں کے ذریعے مزاحمت دکھاتے آئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

لاطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ماریموتو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیس مورالیس راکیٹو، جن کی تنظیم نے گولڈن گلوبز میں امیگریشن سے متعلق بیجز متعارف کرائے تھے، نے اسے فنکاروں کی سیاسی سرگرمیوں کی ’واپسی‘ قرار دیا۔
انہوں نے جنوری میں گولڈن گلوبز کے ریڈ کارپٹ پر اداکار مارک رفالو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایک لمحے نے پورے ماحول کو بدل دیا تھا۔
رفالو اکثر سیاسی معاملات پر کھل کر بات کرتے ہیں، انہوں نے انٹرٹینمنٹ ٹونائٹ سے گفتگو میں کہا تھا ’جتنا مجھے یہ سب پسند ہے، اتنا ہی میرے لیے دنیا کے حالات کی حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے‘۔
مورالیس راکیٹو نے آسکرز سے قبل کہا، ’ہم نے شروع ہی میں محسوس کر لیا تھا کہ یہ وہ وقت ہے جب لوگوں کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ تاریخ کے اس لمحے میں وہ کہاں کھڑے ہیں‘۔
اتوار کو ’دی وائس آف ہند رجب‘ کی نمائندگی کرنے والے شرکا نے سرخ رنگ کا نیا  ’آرٹسٹس فار سیز فائر‘ کا بیج پہنا۔ یہ ڈاکیو ڈرامہ غزہ میں جان سے جانی والی ایک فلسطینی بچی کو بچانے کی کوششوں کی کہانی بیان کرتا ہے اور اسے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
فلم کی ایک اداکارہ سجا کیلانی نے ریڈ کارپٹ پر ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا، ’ہماری جدوجہد اور آزادی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، آج یہاں موجود ہونا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘
اتوار کی تقریب کا مجموعی ماحول پچھلے برسوں کے مقابلے میں زیادہ سیاسی نظر آیا، اگرچہ ایران جنگ اور دیگر عالمی تنازعات کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔

پال تھومس اینڈرسن کی فلم نے چھ آسکرز جیتے جن میں بہترین فلم اور ڈائریکٹر کے ایوارڈ بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

آسکر ایوارڈ حاصل کنے والی فلم ’ون بیٹل آفٹر انادر‘ کے ہدایتکار پال تھامس اینڈرسن نے کہا کہ انہوں نے یہ سیاسی ڈرامہ اپنے بچوں کے لیے اس احساس کے ساتھ لکھا کہ ’ہم نے ان کے لیے اس دنیا میں جو انتشار چھوڑا ہے، ہم اس پر معذرت کرنا چاہتے ہیں۔‘
آسکرز میزبان کونن اوبرائن نے امریکی صحت کے نظام اور گلوکار کڈ راک پر طنزیہ جملے بھی کہے اور قدامت پسند تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے متبادل سپر باؤل ہاف ٹائم شو کا حوالہ دیا۔
تاہم ایک لمحے میں اوبرائن نے سنجیدگی سے کہا کہ ایسے ادوار میں آسکرز کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، جب دنیا مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہو۔
انہوں نے کہا، ’آج رات ہم صرف فلم کا نہیں بلکہ عالمی آرٹسٹری، باہمی تعاون، صبر، ثابت قدمی اور آج کے دور کی سب سے نایاب خوبی امید کا بھی اعتراف کر رہے ہیں۔‘

 

شیئر: