Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ممبئی دھماکے، دہشت گردی کا بدنام زمانہ مقدمہ جس نے سنجے دت کو ’دہشت گرد‘ بنا دیا

پولیس افسر کے مطابق ’سنجے دت نے داؤد ابراہیم سے بات کی، اس سے ملاقات کی، اور پھر اسلحہ اپنے گھر منگوایا‘ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
معروف انڈین ادکار سنجے دت اپنی جوانی کے دنوں میں اکثر ایک ’بگڑا ہوا امیرزادہ سمجھے جاتے تھے۔
’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق فلمی دنیا کے لیجنڈ اداکاروں نرگس دت اور سنیل دت کے بیٹے سنجے دت کا نام اکثر غلط وجوہات کی بنا پر خبروں میں آتا رہا۔ وقت کے ساتھ ان کی زندگی کئی تنازعات کی زَد میں رہی، جن میں منشیات کا استعمال، انڈرورلڈ سے مبینہ روابط اور 1993 کے بمبئی دھماکوں سے تعلق شامل ہیں۔
ان پر غیرقانونی اسلحہ رکھنے کا الزام لگا اور بعد ازاں انہیں ’9 ایم ایم پستول‘، ’اے کے 56‘ رائفل، ’ہینڈ گرینیڈز‘ اور گولہ بارود رکھنے کے جُرم میں سزا بھی سنائی گئی۔
سنجے دت کے کیس کی تحقیقات کرنے والے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر ایم این سنگھ نے حال ہی میں ’حسین زیدی فائلز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس کیس کی تفصیلات پر دوبارہ روشنی ڈالی۔

’سنجے دت نے داؤد ابراہیم سے بات کی اور اسلحہ منگوایا‘

ایم این سنگھ کے مطابق انڈرورلڈ بیرون ملک سے اسلحہ لانے میں ملوث تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سنجے دت نے داؤد ابراہیم سے بات کی، اس سے ملاقات کی، اور پھر اسلحہ اپنے گھر منگوایا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ابو سالم داؤد ابراہیم کے چھوٹے بھائی کی ہدایات پر اسلحہ پہنچانے آیا تھا، جب ہمیں معلوم ہوا کہ سنجے دت نے اسلحہ قبول کیا ہے تو ہم سب حیران رہ گئے۔‘

سنیل دت کی شخصیت کے باعث حیرت

ایم این سنگھ نے مزید کہا کہ اس وقت سنیل دت ایک فعال سیاست دان تھے اور ان کی شہرت نہایت شاندار تھی، اسی لیے سنجے دت کا اس معاملے میں ملوث ہونا سب کے لیے چونکا دینے والا تھا۔
’ہمیں یقین نہیں آرہا تھا، یہ اس لیے نہیں کہ سنجے ایسا نہیں کر سکتے تھے، بلکہ سنیل دت کی وجہ سے۔ وہ ایک نہایت شریف انسان تھے۔ لیکن جب میرے پاس اتنی معلومات تھیں تو میں کارروائی کیسے نہ کرتا؟ کیا میں صرف اس لیے نظر انداز کر دیتا کہ وہ ایک سٹار ہے؟ یہ ممکن نہیں تھا۔‘

سنجے دت کا اعتراف: ’میں نے غلطی کی‘

ایم این سنگھ کے مطابق جب سنجے دت کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے اپنے جُرم کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے اسلحہ لیا، لیکن یہ میری غلطی تھی۔‘

ایم این سنگھ نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انہیں مختلف حلقوں سے دباؤ کا سامنا تھا، (فائل فوٹو: سکرین گریب)

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے گینگسٹرز سے رابطہ کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’فسادات کے دوران مجھے دھمکیاں مل رہی تھیں، اسی لیے میں نے اسلحہ منگوایا۔‘
ایم این سنگھ بتاتے ہیں کہ ’میں نے انہیں کہا کہ آپ کے پاس پہلے ہی لائسنس یافتہ اسلحہ موجود تھا اور گھر کے باہر پولیس سکیورٹی بھی تھی، اس کے باوجود اے کے 56 رائفل اور گرینیڈ رکھنا کسی صورت ذاتی حفاظت کے لیے نہیں ہو سکتا۔‘ اس کے بعد سنجے دت نے ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

’لڑکا بے وقوف ہے‘: سنیل دت کی اپیل

ایم این سنگھ نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انہیں مختلف حلقوں سے دباؤ کا سامنا تھا، جن میں سنیل دَت بھی شامل تھے۔ وہ اکثر آکر اپنے بیٹے کو بچانے کی درخواست کرتے اور کہتے، ’لڑکا بے وقوف ہے۔‘
ایم این سنگھ کے مطابق انہوں نے سنیل دَت کو بتایا کہ یہ ممکن نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سنجے ایک عوامی شخصیت ہیں اور کیس پوری دنیا کے سامنے ہے۔ سنیل دت نے درخواست کی کہ ان کے بیٹے پر ٹاڈا (قانون) لاگو نہ کیا جائے کیونکہ وہ دہشت گرد نہیں ہے۔
ایم این سنگھ نے کہا کہ ’وہ روایتی دہشت گرد نہیں تھے، لیکن دہشت گردوں کی مدد کرنا بھی ایک سنگین جُرم ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’سنجے دَت واحد شخص نہیں تھے جن کے خلاف کارروائی کی گئی، بلکہ دیگر افراد، حتیٰ کہ کچھ پولیس افسران بھی اس کیس میں ملوث پائے گئے۔‘

پولیس افسر ایم این سنگھ نے کہا کہ سنجے دت روایتی دہشت گرد نہیں تھے (فائل فوٹو: یوٹیوب)

کیس اور عدالتی سوالات

ایم این سنگھ نے کہا کہ انہوں نے بطور افسر اپنی ذمہ داری پوری کی اور ٹاڈا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ تاہم انہوں نے ایک سوال اٹھایا کہ جن افراد نے اسلحہ پہنچایا، جیسے ابو سالم اور دیگر، انہیں ٹاڈا کے تحت سزا دی گئی، لیکن اسلحہ وصول کرنے والے کے ساتھ وہی سلوک نہیں کیا گیا، جو قابلِ غور ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سنجے یا سنیل دت سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، لیکن اس فیصلے پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔

گرفتاری اور اعتراف کی تفصیل

اپنی کتاب ’لٹ می سے اِٹ ناؤ‘ میں سابق ڈپٹی کمشنر پولیس راکیش ماریا نے بھی سنجے دت کی تفتیش کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’ابتدائی طور پر سنجے نے انکار کیا، لیکن بعد میں اعتراف کر لیا۔‘

سنجے دت کی گرفتاری کے بعد کئی معروف شخصیات جیل میں ان سے ملنے آتیں (فائل فوٹو: یوٹیوب)

انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران انہوں نے سنجے سے کہا کہ ’میں آپ سے ایک شریف آدمی کی طرح سوال کر رہا ہوں، آپ کو بھی ویسا ہی جواب دینا چاہیے۔‘
سنجے دت کی گرفتاری کے بعد کئی معروف شخصیات، جن میں سنیل دت، راجندر کمار، مہیش بھٹ، یش جوہر اور بلدیف کھوسلا شامل تھے، ان سے ملنے آئے۔
راکیش ماریا کے مطابق جب سنجے نے اپنے والد کے سامنے اعتراف کیا تو سنیل دت شدید صدمے میں آگئے اور ان کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا، وہ اس حقیقت کی سنگینی کو برداشت نہ کر سکے۔

شیئر: