مدینہ منورہ ریجن میں 14 ویں صدی ہجری کی ’مسجد القلعہ‘ کی تعمیرِ نو
تعمیر نو کے بعد مسجد کا رقبہ 263.55 میٹر مربع کردیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں مدینہ منورہ ریجن کی کمشنری الحناکیہ میں تاریخی ’مسجد القلعہ‘ کی تعمیرِ نو و بحالی کا کام مکمل کیا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق مسجد القلعہ مدینہ منورہ کے شمال مشرق میں 102 کلومیٹر دوری پر الحناکیہ کے تاریخی علاقہ القلعہ میں واقع ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام مسجد القلعہ پڑ گیا۔
مسجد کا مجموعی رقبہ 181.75 میٹرمربع تھا جو تعمیر نو کے بعد 263.55 میٹر مربع کردیا گیا جس کے بعد مسجد میں نمازیوں کی گنجائش 171 ہو گئی۔
تاریخی حوالوں کے مطابق مسجد کی اولین تعمیر 14 ویں صدی ہجری میں کی گئی۔ مسجد کا سابقہ نام علاقے کے گورنر حمد بن سمیحہ کے نام پر رکھا گیا، الحناکیہ کے لوگوں نے بھی اس دور میں مسجد کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا تھا جو سماجی تعاون کی بھرپورعکاس ہے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں مسجد سے متعدد آئمہ اور موذنین وابستہ رہے جن میں سرفہرست شیخ محمد رشادالحربی بطور امام اور خلیل الترکی موذن کے فرائض ادا کرتے تھے۔
واضح رہے ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ مملکت کی ثقافتی و تہذیبی جہت کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

منصوبے کے چار بنیادی اہداف میں جن میں تاریخی مساجد کی تعمیرِ نو، قدیم تعمیری ساخت کو بحال کرنا،مساجد کی تاریخی حیثیت کو نمایاں کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے مملکت کے تعمیراتی اور تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا شامل ہے۔
