Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ختم قرآن اور خصوصی دعا، لاکھوں افراد کی شرکت

حرمین شریفین میں رمضان المبارک کی 29ویں شب لاکھوں افراد نے تراویح اور ختم قرآن کی خصوصی دعا میں شرکت کی۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں زائرین صبح سے ہی پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔
ایس پی اے کے مطابق مسجد الحرام میں ختم قرآن کی دعا میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔
مسجد الحرام میں نماز کی امامت ڈاکٹر شیخ عبدالرحمن السدیس جبکہ مسجد نبوی میں صلاح البدیر نے کی۔
مسجد الحرام کے اندرونی و بیرونی صحن، چھتیں اور نئی توسیعی مقامات کے علاوہ مسجد الحرام کی اطراف کی سڑکیں بھی نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں۔
ادارہ امور حرمین کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں 29ویں شب کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے جن میں سب سے اہم  کراؤڈ کنٹرولنگ یونٹس کی تعیناتی تھی۔
مسجد الحرام کے چاروں سمتوں آنے والے راستوں پر زائرین کی آمد و رفت کو منظم رکھنے کے لیے سکاؤٹس اور فلاحی تنظیم کے رضاکاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔
معمر اور معذور افراد کی سہولت کے لیے ٹریکس مخصوص تھے جبکہ بیرونی صحنوں میں راہداریوں کو کھلا رکھنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

مسجد الحرام کے بیرونی صحنوں میں نصب بڑی سکرینز سے زائرین کو مسجد کے اندر اژدحام کی صورتحال کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ نے حرم شریف کے بیرونی صحنوں میں تراویح اور ختم قرآن کی دعا میں شرکت کرنے والوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات مختص کیے تھے تاکہ وہاں سکون سے جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جا سکے۔
29ویں شب کے دیگر خصوصی انتظامات میں صفائی کے اضافی یونٹس کی تعیناتی بھی تھی۔ وضو خانوں میں بھی مستقل بنیادوں پر صفائی کے کارکن متعین تھے۔
آب زم زم کی مستقل فراہمی کے لیے ’سقیا‘ کی ٹیمیں مصروف رہیں۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی چھتوں پر جانے والے راستوں کو بھی کھلا رکھا گیا جبکہ لفٹس اور اسکیلیٹرز کی بھی دیکھ بھال مستقبل بنیادوں پر جاری رہی۔
حرمین شریفین میں زائرین کی سہولت کے گراؤنڈ رہنما یونٹ کے اہلکار ’اسالنی‘ کے بینر کے ساتھ موجود رہے جنہیں سمارٹ ڈیوائس فراہم کی گئی تھی جس کے ذریعے کسی بھی زبان کا فوری ترجمہ کیا جاسکتا ہے۔

 

شیئر: