Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پرتعیش کروز میں وائرس کا پھیلاؤ، 150 افراد جہاز میں محصور

سمندر میں سفر کے دوران پرتعیش کروز میں پھوٹنے والی وبا سے تین افراد کی ہلاکت کے بعد دو مزید مسافروں میں ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جبکہ 150 کے قریب افراد اب بھی جہاز کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طبی ماہرین مغربی افریقہ کے قریب موجود جہاز سے متاثرہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کروز میں موجود زیادہ تر لوگ برطانوی، امریکی اور ہسپانوی ہیں۔
نیدرلینڈز کا نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ جو وبا کو کنٹرول کرنے میں مدد دے رہے ہیں، کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن دو افراد میں علامات ظاہر ہوئیں ان میں سے ایک میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ نے سورسز کا حوالہ دیا ہے کہ اسی کروز پر سوار ہلاک ہونے والی ڈچ خاتون کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا تھا۔
طبی اداروں کا کہنا ہے مرنے والے دوسرے دو افراد کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی موت بھی اسی وائرس کی وجہ سے ہوئی۔
ہنٹا وائرس سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کا تعلق چوہوں سے ہے اور وہیں پر پھیلتا ہے جہاں چوہے رہتے ہوں اور ان کی گندگی کے ذرات خشک ہونے پر ہوا میں شامل ہو جائے تو سانس لیتے وقت اندر جا سکتے ہیں۔

کروز میں اب بھی 150 کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔
وائرس کا شکار ہونے کے بعد علاج کے لیے کوئی خاص دوائیں موجود نہیں اس لیے توجہ ایسی چیزوں پر دی جاتی ہے جو بیماری کو بڑھنے سے روک سکیں جن میں مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا بھی شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے وسیع پیمانے پر خطرات کم ہیں اور اس پر بہت زیادہ گھبرانے یا سفر پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم جزیرہ نما ملک کیپ وردے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے احتیاط کے طور پر ڈچ جہاز ایم وی ہانڈیس کو بندرگاہ تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابھی تک کروز پر سوار مسافروں میں سے سات میں ہیٹا وائرس کے کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے دو کی لیبارٹری سے باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پانچ کے بارے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہے۔
 نیدرلینڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کروز تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا جس میں ڈیڑھ سو مسافر سوار ہیں اور اب تک اس کے تین مسافر ہلاک ہو چکے ہیں۔

شیئر: