سعودی عرب: حدودِ شمالیہ کے آسمان پر زہرہ اپنی بھرپور چمک دمک کے ساتھ نمودار
آسمان پر نظر آنے والے اجرامِ فلکی میں زھرہ سب سے روشن اور چکمدار سیارہ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حدود الشمالیہ میں آج کل زھرہ سیارہ، غروبِ آفتاب کے بعد مغربی افق پر اپنی بھرپور چمک دمک کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔
’ایسٹرونومی اینڈ سپیس کلب‘ کے رکن عدنان خلیفہ کے مطابق سوج اور چاند کے بعد، آسمان پر نظر آنے والے اجرامِ فلکی میں زھرہ سب سے روشن اور چکمدار سیارہ ہے جسے آج کل سورج ڈوبنے کے بعد آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مقامی روایت میں جب یہ سیارہ افقِ مشرق پر نظر آئے تو اِسے ’صبح کا ستارہ‘ کہتے ہیں۔ جب خاص طور پر بہار کے دنوں میں یہ مغربی افق پر نمودار ہوتا تھا تو صحرا نشین، زھرہ سیارے کے لیے ایک روایتی نام استعمال کرتے تھے جس کا تعلق گڈریوں کے عمل سے تھا۔
وہ کہا کرتے تھے کہ مویشی اس وقت تک (گھاس پھوس) چرتے رہتے ہیں جب تک زھرہ، مغربی افق سے نیچے ہو کر غروب نہیں ہو جاتا۔ اس کے بعد جانوروں کو خیموں میں واپس لایا جاتا تھا۔
عدنان خلیفہ کے مطابق یہ روایتی نام ظاہر کرتے ہیں کہ ہم سے پہلے آنے والی نسلیں صحرائی ماحول میں کس طرح آسمان اور اجرامِ فلکی سے کام لیتے ہوئے اپنی روز مرہ زندگی کو مرتب کرتی تھیں۔

آج کل زھرہ کا چمک دمک کے ساتھ دکھائی دینا، فلکیات کے شوقین افراد اور رات کے وقت فوٹوگرافی کرنے والوں کو ایک بہترین موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ زھرہ کو دیکھیں کیونکہ اِسے افق پر تلاش کرنے میں کسی آلے کی ضرورت نہیں ہے۔