Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حج مقامات پر میڈیسن کی منتقلی کے لیے ڈرون، پیچیدہ آپریشنز کے لیے روبوٹکس ٹیکنالوجی

مکہ اور مدینہ میں 20 ہزار سے زیاد بستروں کی سہولت فراہم کی گئی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیرصحت فہد الجلاجل نے کہا ہے کہ ’عازمین حج کی بہتر دیکھ بھال اور انہیں مثالی صحت خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے مملکت عالمی سطح پر رول ماڈل ہے۔‘
الاخباریہ کے مطابق ریاض میں حکومتی اداروں کی پریس کانفرنس میں فہد الجلاجل نے حج 2026 کے دوران فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں بریف کیا۔
انہوں نے بتایا’ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 20 ہزار سے زیاد بستروں کی سہولت فراہم کی گئی ہے، 3 ہزار بستر مشاعر مقدسہ کے میڈیکل سینٹرز میں موجود ہیں۔‘
علاوہ ازیں گزشتہ حج سیزنز کے مقابلے میں اس سال مشاعرمقدسہ میں ہنگامی طبی امداد کے سینٹرز میں تین فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ان کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔
فہد الجلاجل کا کہنا تھا کہ ’وزارتِ صحت نے ایمبولینس یونٹ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ حج سیزن میں 900 ایمبولینس گاڑیوں اور 11 ایئر ایمبولینس کو مخصوص کیا گیا جبکہ 25 ہزار سے زائد طبی عملہ کی خدمات حج سیزن کے دوران مہیا کی گئی ہیں۔‘
حج ایام میں طبی سہولتوں کے بارے میں وزیر صحت کا کہنا تھا’ عسکری و سکیورٹی اداروں کے تعاون سے تین ہسپتالوں میں 1200 بستر موجود ہیں۔‘

’ وادی منی کے نیا ایمرجنسی ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے جس میں 200 بستروں کی گنجائش ہے۔ مشاعر مقدسہ ( منی، عرفات اور مزدلفہ) میں 71 میڈیکل یونٹس قائم ہیں۔‘
انہوں نے بتایا’ حج کے دوران پیچیدہ آپریشنز کے لیے روبوٹکس ٹیکنالوجی کا استعال کر رہے ہیں۔عازمین حج کی صحت کی نگرانی کےلیے سمارٹ واچز کا بھی استعمال کیا جائے گا۔‘
’ صحہ ورچوئل ہسپتال کے ذریعے ورچوئل ہیلتھ کیئر میں توسیع کی جا رہی ہے۔ حج مقامات پر دواوں اور میڈیکل سیمپلز کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ڈرون استعمال کیے جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ’ مملکت آج ’ماس گیدرنگ میڈیسن‘کی فیلڈ میں ایک رہنما ہے ۔عالمی ادارہ صحت نے مملکت کے ماس گیدرنگ میڈیسن سینٹر کو عالمی مرکز کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

 

شیئر: