’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ کا شاندار آغاز، افتتاحی ویک اینڈ میں 92 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کا بزنس
ٹام ہالینڈ کی نئی فلم ’اسپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ نے افتتاحی ویک اینڈ میں 92 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کا بزنس کیا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
ٹام ہالینڈ کی نئی فلم ’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ نے دنیا بھر کے باکس آفس پر شاندار آغاز کرتے ہوئے افتتاحی ویک اینڈ میں 92 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 264 ارب پاکستانی روپے) کا بزنس کیا ہے، جو عالمی اور شمالی امریکی باکس آفس کی تاریخ کا دوسرا بڑا افتتاحی ویک اینڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فلم نے امریکہ اور کینیڈا میں 35 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 101 ارب پاکستانی روپے) جبکہ بین الاقوامی مارکیٹس میں 57 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 163 ارب پاکستانی روپے) کی کمائی کی۔
اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے رینٹریک کے مطابق یہ فلم کورونا وبا کے بعد شمالی امریکہ میں سب سے بڑی افتتاحی کمائی کرنے والی فلم بن گئی ہے، جبکہ شمالی امریکہ اور عالمی سطح پر افتتاحی ویک اینڈ کے لحاظ سے اس سے آگے صرف 2019 میں ریلیز ہونے والی ’ایونجرز: اینڈ گیم‘ ہے۔
’ایونجرز: اینڈ گیم‘ نے افتتاحی ویک اینڈ میں مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے اعداد و شمار کے تحت 1.6 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 456 ارب پاکستانی روپے) کی عالمی کمائی کی تھی، جن میں 46 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 133 ارب پاکستانی روپے) صرف امریکہ اور کینیڈا سے حاصل ہوئے تھے۔
فلم میں ٹام ہالینڈ چوتھی بار پیٹر پارکر/سپائیڈر مین کے کردار میں نظر آئے ہیں۔
فلم میں پیٹر پارکر ایک ایسی دنیا میں جرائم سے لڑتا دکھائی دیتا ہے جہاں لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ وہی سپائیڈر مین ہے۔ زینڈایا نے ایک بار پھر ایم جے کا کردار ادا کیا ہے، جو پیٹر پارکر کی محبوبہ ہیں۔ فلم میں تنہائی، دوستی اور انسانی تعلقات کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔
سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ کے موشن پکچر گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ٹام روتھمین نے کہا کہ ’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ بنیادی طور پر دوستی اور انسانوں کے درمیان تعلق کی اہمیت پر مبنی فلم ہے، اور یہی موضوع دنیا بھر کے ہر عمر کے ناظرین کو متاثر کر رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹس میں چین فلم کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ثابت ہوا، جہاں افتتاحی ویک اینڈ میں 12 کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 34.5 ارب پاکستانی روپے) کی ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں سپر ہیرو فلموں کے حوالے سے شائقین کی دلچسپی میں کمی کی باتیں کی جا رہی تھیں، تاہم اسپائیڈر مین اب بھی مارول کے مقبول ترین کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
فلمی جائزوں کی ویب سائٹ راٹن ٹومیٹوز پر فلم کو ناقدین کی جانب سے 90 فیصد جبکہ ناظرین کی جانب سے 98 فیصد پسندیدگی حاصل ہوئی ہے۔
رینٹریک میں مارکیٹ پلیس ٹرینڈز کے سربراہ پال ڈیرگارابیڈیان کے مطابق اسپائیڈر مین فلموں کی مجموعی عالمی باکس آفس کمائی اب 10 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 2 ہزار 850 ارب پاکستانی روپے) کے قریب پہنچ رہی ہے، جو اس کردار کی مسلسل مقبولیت کا ثبوت ہے۔
تفریحی صنعت پر تحقیق کرنے والی کمپنی اینیکٹ اِن سائٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو گریگ ڈرکن کے مطابق فلم میں تنہائی، الگ تھلگ رہنے کے احساس اور مشکلات پر قابو پانے جیسے موضوعات کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس نے خاص طور پر جنریشن زیڈ کے ناظرین کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، خصوصاً نوجوان مردوں، میں ذہنی صحت اور دوستی کے بحران جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ کورونا وبا کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلم انہی اہم موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔
’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ کی کامیابی نے موسم گرما میں سنیما گھروں کے کاروبار کو بھی نئی تقویت دی ہے، جہاں ’ٹوائے اسٹوری 5‘ اور ’دی اوڈیسی‘ جیسی فلمیں بھی اچھی کمائی کر رہی ہیں۔
پال ڈیرگارابیڈیان کے مطابق ’دی اوڈیسی‘ اور ’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ کی مشترکہ کارکردگی کی بدولت امریکی سنیما گھروں نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ویک اینڈ دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ ’دی اوڈیسی‘ سے بہتر اس فلم کے لیے کوئی اور پیش خیمہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے سنیما گھروں میں اسی فلم کے دوران ’سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ کے ٹریلرز دیکھے، جس سے فلم کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹام ہالینڈ، زینڈایا اور جان برنتھل ان دونوں فلموں میں بھی نظر آتے ہیں۔
تاہم رینٹریک کے مطابق رواں سال امریکہ میں باکس آفس کی مجموعی آمدن گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے، لیکن یہ اب بھی 2019 یعنی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے 16 فیصد کم ہے۔