پاکستان میں فیک نیوز پر قید اور 50 کروڑ جرمانہ، نئی سوشل میڈیا اتھارٹی کے پاس کون کون سے اختیارات ہیں؟
جمعرات 19 مارچ 2026 15:50
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
فیک نیوز یا گمراہ کن معلومات پھیلانے پر تین سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے(فائل فوٹو: پکسابے)
پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ اس کے چیئرمین و ارکان کا تقرر بھی کر دیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے۔
اس اتھارٹی کے قیام کے بعد پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے ایک نئے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس اتھارٹی کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنا، آن لائن مواد کی نگرانی کرنا اور غیر قانونی یا قابلِ اعتراض مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
حکومت اسے ایک ضروری اصلاح قرار دے رہی ہے جبکہ ناقدین اسے آزادیٔ اظہار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے ’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025‘ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کے قیام اور اس کے عہدیداروں کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق ایاز شوکت کو اتھارٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے پانچ دیگر ممبران بشمول سہیل اقبال، عدنان خان، محمد سلمان ظفر، فہد ملک اور محمد سعد علی کا تقرر بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے جاری کردہ اس حکم نامے کے تحت، چیئرمین اور تمام نامزد ممبران کو پانچ سال کی مدت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
اس اتھارٹی کا بنیادی مقصد ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سرگرمیوں کی نگرانی، صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ اور ڈیجیٹل مواد کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔
سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک مرکزی ریگولیٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو پاکستان میں کام کرنے والے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے دائرہ اختیار میں لائے گی۔ اس کے تحت مقامی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے لیے رجسٹریشن لازمی ہو گی اور قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں جزوی یا مکمل طور پر بلاک کیا جا سکتا ہے۔
اس اتھارٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی ایسے مواد کو، جو غیر قانونی، گمراہ کن یا ریاستی مفاد کے خلاف تصور کیا جائے، 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا حکم دے۔
ادارے کی ساخت کے مطابق اس میں ایک چیئرمین، پانچ نجی ارکان اور تین سرکاری نمائندے شامل ہوں گے جبکہ اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا اور ضرورت کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں میں دفاتر قائم کیے جا سکیں گے۔
ابتدائی مرحلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس ادارے کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی، اور اس کے ارکان کی مدتِ تعیناتی پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل اور سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹریبونل بھی قائم کیا جائے گا، جہاں شکایات اور اپیلوں کو سنا جائے گا اور 90 دن کے اندر فیصلے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تحقیقاتی اداروں کو مطلوبہ ڈیٹا 24 گھنٹوں کے اندر فراہم کریں جبکہ ہنگامی حالات میں یہ دورانیہ کم ہو کر چھ گھنٹے رہ جاتی ہے۔
اسی طرح فیک نیوز یا گمراہ کن معلومات پھیلانے پر تین سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ کمپنیوں پر 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف آن لائن جرائم کی روک تھام ہو گی بلکہ صارفین کو ہراسانی، دھوکہ دہی اور نفرت انگیز مواد سے تحفظ بھی ملے گا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کا ترمیم شدہ سائبر کرائم قانون نہ تو عوام کو حقیقی خطرات سے بچاتا ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے۔‘
