ایرانی تیل پر پابندیاں عارضی طور پر ختم کر سکتے ہیں: امریکی وزیر خزانہ
جمعرات 19 مارچ 2026 19:56
حالت امن میں تقریباً عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن ممکنہ طور پر ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ’عارضی طور پر ختم‘ کر سکتا ہے جو پہلے ہی شپ ہو رہا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے سبب توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فاکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیسینٹ نے کہا کہ امریکی حکومت اپنی سٹریٹجک ریزروز سے مزید تیل جاری کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کر رہی ہے۔
بیان کے مطابق تہران کے جوابی اقدامات کے سبب آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی شپنگ تقریباً رک گئی، جس سے توانائی کی فراہمی کی چینز متاثر ہوئی ہیں۔
حالت امن میں عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی اہم آبی راہداری سے گزرتا ہے۔
اس وقت برینٹ خام تیل کی قیمت پہلے 10 فیصد بڑھ گئی تھی، پھر کچھ کمی کے بعد 5 فیصد اضافے کے ساتھ 112.76 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
امریکہ نے حال ہی میں سمندر میں موجود روسی تیل کی فروخت کی بھی عارضی طور پر اجازت دی تھی، اور بدھ کے روز توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش میں صدی پرانی سمندری شپنگ قانون کی عارضی چھوٹ دی گئی۔
