Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس میں ’بارودی مواد کے ڈھیر‘پر پارٹی، پابندی کے باوجود ہزاروں افراد کی شرکت

پارٹی شرکا کا کہنا ہے کہ پارٹی میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت ’دباؤ کے خلاف ایک مضبوط پیغام‘ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس میں ایک فوجی مقام پر ہفتے کے روز تقریباً 20 ہزار افراد غیر تباہ شدہ بارودی مواد اور ممکنہ دھماکوں کے خطرات سے دی جا رہی وارننگز کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک غیر قانونی ریو پارٹی میں جمع ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وسطی فرانس کے شہر بورژ کے قریب یہ ریو پارٹی جمعے کے روز شروع ہوئی، اور منتظمین کو توقع ہے کہ ہفتے کے اختتام پر اس تقریب میں فرانس اور ہمسایہ ممالک سے 30 ہزار تک افراد شرکت کریں گے۔
مقامی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس پارٹی کے غیر قانونی ہونے کے باوجود حکومت نے اس تقریب کی حفاظت کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی بدامنی، خاص طور پر قریبی رہائشیوں کے لیے مسائل کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔‘
علاقے کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار فلیپ لی موئنگ سرزر نے  اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقام ’انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہاں غیر تباہ شدہ بارودی مواد موجود ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ جدید گولہ بارود خطرہ نہیں، تاہم پرانے غیر پھٹے ہوئے گولوں سے خطرہ لاحق ہے، اور انہوں نے شرکا کو قریبی جنگلات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مقام 150 سال سے استعمال میں ہے، اور ہمیں معلوم ہے کہ یہاں پرانے توپ خانے کے گولے موجود ہو سکتے ہیں،‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بم ڈسپوزل ماہرین کو یہاں باقاعدگی سے ایسے گولے ملتے رہتے ہیں۔
اس پارٹی میں شریک افراد اسے نہ صرف تفریح کا موقع سمجھتے ہیں بلکہ غیر قانونی ٹیکنو تقریبات کے حوالے سے سخت قوانین کے خلاف ایک احتجاج بھی قرار دیتے ہیں۔

پارٹی میں ہفتے کے اختتام پر فرانس اور ہمسایہ ممالک سے 30 ہزار تک افراد شرکت کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)

ایک 22 سالہ نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نے سنا تھا کہ یہاں بہت زیادہ لوگ آئیں گے، لیکن جب آپ خود یہاں پہنچتے ہیں تو اتنی بڑی تعداد کو ایک جگہ دیکھ کر پھر بھی حیرت ہوتی ہے۔‘
ایک اور 19 سالہ نوجوان نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں شرکت ’دباؤ کے خلاف ایک مضبوط پیغام‘ ہے۔
اس مقام پر تقریباً 600 پولیس اہلکار اور 45 فائر فائٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔
قریبی گاؤں کورنیس کی آبادی 220 افراد پر مشتمل ہے اور وہ اس مقام سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے، کی میئر ایڈتھ راکین نے کہا کہ ’ہم آج رات ایک بڑی محفل کے لیے تیار ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے ہم پوری رات جاگتے رہیں۔‘
اب تک کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ امدادی ٹیموں نے ایک درجن افراد کو معمولی زخموں کے لیے طبی امداد فراہم کی۔

شیئر: