Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی سمرف آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ

سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق ڈرون نے ینبع کی بندرگاہ میں قائم سمرف ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک آئل ریفائنری پر ڈرون گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ڈرون نے ینبع کی بندرگاہ میں قائم سمرف ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل وزارت نے بتایا کہ ینبع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
یہ ریفائنری سعودی آرامکو اور ایگزن موبل کا مشترکہ منصوبہ ہے، جو روزانہ چار لاکھ بیرل سے زائد عربین لائٹ خام تیل کو پراسیس کرتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے۔
بحیرۂ احمر پر اس کا محلِ وقوع اسے آبنائے ہرمز میں جاری ایرانی ناکہ بندی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل کی جانب سے اپنے مرکزی گیس فیلڈ پر حملے کے ردعمل میں خلیجی عرب ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بدھ کے روز قطر میں ایک توانائی مرکز ایرانی میزائلوں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوا، جبکہ اسی روز سعودی عرب نے مشرقی علاقے میں گیس تنصیب کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا۔
متحدہ عرب امارات نے بھی جمعرات کی صبح میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے بعد گیس تنصیبات بند کر دیں۔
ادھر کویت میں کویت پٹرولیم کارپوریشن کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ ریفائنریوں کے آپریشنل یونٹس کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
سعودی عرب میں جمعرات بھر مختلف مقامات پر ڈرونز کو تباہ کیا جاتا رہا، جن میں زیادہ تر مشرقی علاقے میں مار گرائے گئے جبکہ دارالحکومت ریاض کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دریں اثنا سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بڑھتے حملوں کے سامنے مملکت کا ضبط ’لامحدود نہیں۔‘
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب اور اسلامی ممالک نے تہران سے جارحیت روکنے کا مشترکہ مطالبہ کیا ہے۔

شیئر: