Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ اور ’بُرے لوگوں‘ کو مارنے کی کیا قیمت چکانا ہوگی؟

پینٹاگان کے کنٹرولر نے مبینہ طور پر قانون سازوں کو بتایا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں پر 11 اعشاریہ تین ارب ڈالر خرچ ہوئے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’برے لوگوں کو مارنے پر رقم خرچ ہوتی ہے۔‘
یہ مؤقف انہوں نے اس وقت اختیار کیا جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا پینٹاگان نے ایران جنگ کے لیے 200 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے لیے درخواست کی ہے؟
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابھی تک عوامی سطح پر یہ بات سامنے نہیں آئی کہ اس جنگ پر ابھی تک کتنا خرچہ ہو چکا ہے اور حتمی بل کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی مہم کب تک چلے گی۔
تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ رقم کافی بڑی ہو سکتی ہے، پینٹاگان کے مالیاتی امور کے کنٹرولر نے مبینہ طور پر قانون سازوں کو بتایا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں کے دوران 11 اعشاریہ تین ارب ڈالر کی لاگت آئی۔
عالمی پالیسی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈینیئل شنائیڈرمین کا کہنا ہے کہ ’اس مدت کے دوران انتظامیہ نے جو کچھ کیا اس کے دائرے اور حجم کو دیکھتے ہوئے کہ ہندسہ قابل اعتبار دکھائی دیتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’استعمال کیے گئے گولہ بارود، انٹرسیپٹرز، ہوائی جہازوں کی تعداد، ایندھن سمیت آپریشن کے دیگر اخراجات کی مناسبت سے دیکھا جائے تو یہ صورت حال ایک بڑے بل کی طرف جائے گی۔‘
ایران کے خلاف جس قسم کا آپریشن کیا جا رہا ہے اس میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اشیا بہت مہنگی ہیں۔
جمعرات کو پیٹ ہیگستھ نے بالواسطہ طور پر پینٹاگان کی جانب سے کی گئی اضافی فنڈنگ کی درخواست کی تصدیق کی اور کہا کہ ’جہاں تک 200 ارب ڈالر کی بات ہے تو میرے خیال میں یہ بڑھ سکتی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کانگریس اور اپنے عوام کے پاس واپس جا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو کچھ کیا گیا ہے اس کے لیے ہمیں مناسب فنڈز فراہم کیے گئے جبکہ مستقبل میں جو کچھ کریں گے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارا گولہ بارود اور دوسرا سامان ری فِل ہو گیا ہے۔‘
صدر ٹرمپ بھی اس وقت ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے دکھائی دیے جب ان سے اس بارے میں سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سے بہت سی وجوہات کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے جو کہ ایران کے معاملے کے علاوہ ہیں، یہ ایک عجیب دنیا ہے۔‘
انہوں نے اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’جو کچھ ہمارے پاس ہے ہم اس سے بہت زیادہ گولہ بارود حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ایک چھوٹی سی قیمت ہے کہ ہم سب سے اوپر رہیں۔‘
جنگ کے دوران استعمال ہونے والے جنگی ساز و سامان کی لاگت کے علاوہ ایک اضافی خرچہ اس صورت میں بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تیل کی سپلائی کم ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

شیئر: