Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا ایران معاہدے کو وقت دینے کی خاطر آبنائے ہرمز میں ’پراجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان

امریکی فوجی سربراہ جنرل ڈین کین نے بتایا کہ سو سے زائد امریکی طیارے آبنائے پر گشت کر رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ وقتی طور پر آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کی کوشش روک رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور معاہدے کے لیے وقت مل سکے۔ تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بدستور قائم رہے گی۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’یہ اقدام پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر، ایران کے خلاف فوجی کامیابیوں اور مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے باعث کیا گیا ہے۔ ایران کے نمائندوں کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ  پیر کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے میں مدد کا آغاز کرے گا جبکہ ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا تھا کہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی امریکی ’مداخلت‘ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر مذاکرات کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اگرچہ بات چیت رکی ہوئی ہے، لیکن تقریباً ایک ماہ سے جنگ بندی قائم ہے۔ اس دوران متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے حملوں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی فوجی قیادت اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اور بڑی فوجی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امن کے لیے ایران کو ٹرمپ کے جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات ماننے ہوں گے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ چین کے دوران بیجنگ تہران پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے پر اپنی گرفت ختم کرے۔
امریکہ نے دعوی کیا کہ پیر کو اس نے ایک راستہ کھولا اور چھ ایرانی کشتیوں کو ڈبو دیا جو تجارتی جہازوں کو دھمکا رہی تھیں۔ اب تک صرف دو تجارتی جہاز اس راستے سے گزر سکے ہیں جبکہ سینکڑوں جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ روبیو نے کہا کہ ہزاروں ملاح بھوک اور خطرے میں ہیں اور کم از کم دس ہلاک ہو چکے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے (فوٹو: روئٹرز)

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ موجودہ صورتحال برداشت نہیں کر سکتا جبکہ ایران نے ابھی آغاز بھی نہیں کیا۔ ایران نے امریکی دعوے کو جھٹلایا کہ چھ ایرانی کشتیاں ڈبوئی گئی ہیں، اور کہا کہ دو چھوٹی کارگو کشتیاں نشانہ بنیں جن میں پانچ شہری ہلاک ہوئے۔
امریکی فوجی سربراہ جنرل ڈین کین نے بتایا کہ سو سے زائد امریکی طیارے آبنائے پر گشت کر رہے ہیں اور 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی جاری ہے جس سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے جس کو ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد بند کر دیا تھا جس سے عالمی سطح پر تیل کی تجارت کو دھچکا لگا اور قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔

 

شیئر: