Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے آئی کے ذریعے میری جعلی تصاویر تیار کر کے انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا: اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی برہم

وزیراعظم کے مطابق یہ تصاویر سیاسی مخالفین کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے (فائل فوٹو: سی این این)
اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی جانے والی جعلی تصاویر (ڈیپ فیکس) کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی تصاویر عوام کو آسانی سے دھوکہ دے سکتی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’میری کئی جعلی تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئیں اور انہیں سوشل میڈیا پر اس طرح پھیلایا گیا جیسے وہ حقیقی ہوں۔‘
ان کے مطابق ’یہ تصاویر سیاسی مخالفین کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔‘
’ایکس‘ جورجیا میلونی نے ایک ایسی جعلی تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہیں بستر پر نامناسب لباس میں بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا، جہاں اسے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’اٹلی کی وزیر اعظم کے شایانِ شان نہیں۔‘
تاہم جورجیا میلونی نے اس معاملے پر طنزیہ انداز بھی اپنایا اور کہا کہ ’مجھے ماننا پڑے گا کہ جس نے یہ تصاویر بنائیں، کم از کم اس مثال میں مجھے کچھ بہتر ہی بنا دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب لوگوں پر حملہ کرنے اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مسئلہ صرف میری ذات تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ڈیپ فیکس ایک خطرناک ہتھیار ہے، کیونکہ یہ دھوکہ دے سکتا ہے، لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے اور کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ میں اپنا دفاع کر سکتی ہوں، لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ایسا نہیں کر سکتے۔‘

جورجیا میلونی نے عوام پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کو قبول کرنے یا شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیشہ ایک اصول ہونا چاہیے، یقین کرنے سے پہلے تصدیق کریں اور شیئر کرنے سے پہلے سوچیں۔‘
یاد رہے کہ جورجیا میلونی اس مسئلے پر پہلے بھی قانونی کارروائی کر چکی ہیں۔ دو سال قبل انہوں نے ایک شخص کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس پر الزام ہے کہ اس نے ان کے چہرے کا استعمال کرتے ہوئے جعلی اور فحش نوعیت کی تصاویر تیار کیں اور انہیں آن لائن پوسٹ کیا۔ یہ مقدمہ تاحال جاری ہے۔
 

شیئر: